
اقوامِ متحدہ میں پائیدار ترقی کے لیے بین الاقوامی سالِ رضاکاراں کے آغاز پر قازقستان کے صدر کا خطاب جاری
آستانہ، یورپ ٹوڈے: اکوردا صدارتی رہائش گاہ کی پریس سروس نے جمعہ کو قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف کا وہ خطاب جاری کیا ہے جو انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے پائیدار ترقی کے لیے بین الاقوامی سالِ رضاکاراں کے آغاز کے موقع پر کیا۔ عالمی میڈیا کے مطابق صدر توقایف نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس معزز اجتماع سے خطاب کرنا اُن کے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سنگِ میل ہمارے اس مشترکہ وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت رضاکاروں کو بااختیار بنا کر انہیں قومی و عالمی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ قازقستان نے یہ اقدام اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون کے تحت پیش کیا۔
صدر توقایف کے مطابق آج کی پیچیدہ دنیا میں رضاکار ایک اہم مشن انجام دے رہے ہیں — زندگیوں کے تحفظ سے لے کر کمزور ترین طبقات تک رسائی، اور معاشروں میں اعتماد و یکجہتی کو فروغ دینے تک۔ انہوں نے کہا کہ رضاکارانہ سرگرمیاں اب عالمی سطح پر نیکی اور مثبت تبدیلی کی ایک طاقت بن چکی ہیں، جو پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کے حصول میں مددگار ہیں۔
خطاب میں انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کا رضاکار پروگرام اپنی عالمی رسائی کو مسلسل بڑھا رہا ہے اور دنیا بھر کے لوگوں کو یکجا کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے فریم ورک سے ہٹ کر بھی رضاکارانہ سرگرمیوں میں دنیا بھر کے کروڑوں افراد شامل ہیں۔
صدر توقایف نے کہا کہ قازقستان میں بھی رضاکارانہ خدمات عوامی زندگی کا ایک مؤثر اور متحرک حصہ بن چکی ہیں۔ انہوں نے خصوصی طور پر قومی مہم “تازا قازقستان” یا “کلین قازقستان” کا ذکر کیا، جس کے ذریعے ہزاروں شہری قدرتی مقامات کی بحالی اور ماحولیاتی تحفظ کے فروغ میں حصہ لیتے ہیں۔ یہ مہم اقوامِ متحدہ کی پائیداری سے متعلق کوششوں کی مؤثر تکمیل ہے۔
انہوں نے اس روح کے ساتھ الماتی شہر میں اقوام متحدہ کی سرپرستی میں تعاون کے ایک بین الاقوامی مرکز کے طور پر ترقی کا خیر مقدم کیا، جہاں وسطی ایشیا اور افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے ایس ڈی جیز ریجنل سینٹر کا قیام عمل میں آچکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی الماتی میں اقوام متحدہ کے رضاکاروں کے سب ریجنل آفس کا افتتاح قازقستان کے شہری شمولیت اور عالمی شراکت داری کے پختہ عزم کا اظہار ہے۔
صدر نے کہا کہ یہ تمام کوششیں ثابت کرتی ہیں کہ عالمی چیلنجز صرف اجتماعی اقدامات اور باہمی اعتماد کے ذریعے ہی حل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے تمام ممالک کے رضاکاروں کو ماحول کے تحفظ، سماجی شمولیت اور نوجوانوں کے بااختیار بنانے سے متعلق اقوام متحدہ کی مختلف سرگرمیوں میں شامل ہونے کی دعوت دی، تاکہ مشترکہ منصوبوں اور تجربات کے تبادلے کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قازقستان اقوام متحدہ کے رضاکار پروگرام کی کاوشوں کو سراہتا ہے اور نوجوانوں، خواتین اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد کے لیے مواقع میں اضافے کی غرض سے مزید مضبوط شراکت داری کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔
اقوام متحدہ کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر صدر توقایف نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کو زیادہ منصفانہ اور ماحول دوست بنانے کے لیے یکجہتی، تعاون اور انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری جیسے بنیادی اصولوں کی ازسرِنو توثیق ضروری ہے۔
خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ قازقستان اس تاریخی سال اور اس کے بعد بھی رضاکارانہ سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام رکن ممالک اور سول سوسائٹی کے ساتھ تعمیری تعاون جاری رکھے گا۔