
موٹروے نیٹ ورک کی توسیع کے اہم فیصلے، لاہور۔سیالکوٹ موٹروے تین لین کرنے اور نئے منصوبوں میں کم از کم چھ لین کی پالیسی کی منظوری
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان نے بدھ کے روز نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں ملک کے موٹروے نیٹ ورک سے متعلق متعدد اہم اور تاریخی فیصلوں کی منظوری دی گئی۔
اجلاس کے دوران لاہور۔سیالکوٹ موٹروے کو دو لین سے بڑھا کر تین لین تک توسیع دینے کے منصوبے پر باضابطہ طور پر کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسی طرح وفاقی وزیر نے سیالکوٹ۔کھاریاں اور اسلام آباد موٹروے کی تعمیر میں تیزی لانے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان شاہراہوں کو بھی تین لین پر مشتمل ڈوئل کیریج وے کے طور پر تعمیر کیا جائے گا۔
عبدالعلیم خان نے اس موقع پر نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ کسی بھی موٹروے منصوبے کو ہر سمت میں تین لین سے کم پر تعمیر نہیں کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ تمام نئے موٹرویز کم از کم چھ لین پر مشتمل ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی صرف موجودہ ضروریات نہیں بلکہ مستقبل کے سفری تقاضوں کو مدنظر رکھ کر کی جانی چاہیے۔
وفاقی وزیر نے این ایچ اے کو فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے تعاون سے سیالکوٹ۔راولپنڈی موٹروے پر کام تیز کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس اہم منصوبے کی تکمیل سے موٹروے ایم-2 پر ٹریفک کا دباؤ نمایاں طور پر کم ہو جائے گا اور لاہور و اسلام آباد کے درمیان سفر زیادہ آسان اور تیز ہو جائے گا۔ اس نئی شاہراہ کے ذریعے دونوں بڑے شہروں کے درمیان فاصلہ تقریباً 100 کلومیٹر کم ہو جائے گا جبکہ مسافروں کا کم از کم ایک گھنٹہ سفر کا وقت بھی بچ سکے گا۔
اجلاس میں مذہبی سیاحت کے فروغ کے لیے کرتارپور اور ننکانہ صاحب کو براہِ راست موٹروے نیٹ ورک سے منسلک کرنے کے منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ان نئی شاہراہوں کو بھی تین لین پر مشتمل بنایا جائے گا اور زائرین کے محفوظ اور مؤثر سفر کو یقینی بنانے کے لیے جدید معیار کی حفاظتی باڑ لگائی جائے گی۔
وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے کہا کہ ان منصوبوں سے مذہبی سیاحت کو فروغ ملے گا اور یورپ، شمالی امریکہ سمیت دنیا بھر سے سکھ برادری کی بڑی تعداد پاکستان کا رخ کرے گی۔ ان زائرین کی سہولت کے لیے مقدس مقامات کے قریب تین، چار اور پانچ ستارہ ہوٹلوں کے ساتھ جدید شاپنگ مالز کی تعمیر بھی حکومت کے وژن کا حصہ ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ اس نوعیت کی انفراسٹرکچر ترقی سے مہمان نوازی کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔ اس سلسلے میں انہوں نے این ایچ اے کو ہدایت دی کہ برطانیہ، کینیڈا، امریکہ اور یورپ میں سرمایہ کاری کے روڈ شوز کا انعقاد کیا جائے تاکہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی جانب راغب کیا جا سکے۔
عبدالعلیم خان نے کہا کہ جدید مواصلاتی انفراسٹرکچر اور عالمی معیار کی سہولیات کے امتزاج سے پاکستان عالمی برادری کے سامنے اپنا مثبت اور معتدل تشخص مؤثر انداز میں پیش کر سکے گا۔