
مایا سینڈو کا اعلان: ریفرنڈم میں رومانیہ کے ساتھ الحاق کے حق میں ووٹ دوں گی
چسیناؤ: مولڈووا کی صدر مایا سینڈو نے کہا ہے کہ اگر ملک میں ریفرنڈم کروایا جائے تو وہ ہمسایہ یورپی یونین اور نیٹو رکن رومانیہ کے ساتھ اتحاد کے حق میں ووٹ دیں گی تاکہ روسی دباؤ کے مقابلے میں ملک کی نازک جمہوریت کا تحفظ کیا جا سکے۔
صدر سینڈو، جن کی یورپی اتحادی پارٹی نے گزشتہ ستمبر میں نیا مینڈیٹ حاصل کیا، بارہا روس پر مولڈووا میں مداخلت کا الزام لگا چکی ہیں۔ مولڈووا تقریباً 24 لاکھ آبادی والا سابق سوویت جمہوریہ ہے، جس میں اکثریت رومانوی زبان بولنے والی اور اقلیت روسی زبان بولنے والی ہے۔
برطانوی پوڈکاسٹ ‘The Rest is Politics’ کے لیے دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر سینڈو نے کہا، "اگر ریفرنڈم ہوا تو میں رومانیہ کے ساتھ اتحاد کے حق میں ووٹ دوں گی۔ دیکھیں دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ ایک چھوٹے ملک کے لیے جمہوریت اور خودمختاری کے ساتھ زندہ رہنا اور روس کے خلاف مزاحمت کرنا ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔”
تقریباً 15 لاکھ مولڈووان رومانوی شہریت رکھتے ہیں، مگر حالیہ سروے میں ظاہر ہوا ہے کہ صرف ایک تہائی لوگ بخارست کے ساتھ دوبارہ اتحاد کی حمایت کرتے ہیں۔ سینڈو نے کہا کہ وہ جانتی ہیں کہ زیادہ تر مولڈووان ان کے موقف کی حمایت نہیں کرتے، اور یورپی یونین میں شمولیت کو "زیادہ حقیقی مقصد” قرار دیا۔
ان کی حکومت نے 2030 تک یورپی یونین میں شمولیت کا ہدف مقرر کیا ہے، مگر روس کی مخالفت کے باوجود سخت اصلاحات کو نافذ کرنا ہوں گی۔ مولڈووا میں پرو-روسی سوشلسٹ جماعت 2020 تک اقتدار میں تھی۔
مولڈووا، جو یوکرین سے بھی جڑا ہوا ہے، انٹر وارس دور میں رومانیہ کا حصہ تھی، مگر دوسری عالمی جنگ کے دوران سوویت یونین کے زیر انتظام آگئی۔ 1991 میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد اسے آزادی حاصل ہوئی۔