پنجاب

وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بڑے فیصلے، تعلیمی ادارے بند اور سرکاری ایندھن کے استعمال میں کمی

لاہور، یورپ ٹوڈے: وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پیر کے روز مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے توانائی بحران کے پیش نظر صوبے بھر کے تمام تعلیمی اداروں کو ماہ کے اختتام تک بند کرنے اور سرکاری حکام کے ایندھن کے استعمال پر مختلف پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب گزشتہ ہفتے امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور کئی سینئر حکام ہلاک ہوگئے، جس کے بعد تہران کی جانب سے شدید جوابی کارروائیاں شروع ہو گئیں اور خطے میں تنازع مزید پھیل گیا۔ ایران نے متعدد خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں اور توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملوں کے باعث عالمی سطح پر تیل اور گیس کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ خطے میں جاری تنازع کے باعث پیدا ہونے والے غیر معمولی معاشی چیلنجز کے پیش نظر عوام کے مفاد اور وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ پیٹرولیم بحران کے خاتمے تک صوبائی وزراء کو فراہم کی جانے والی سرکاری ایندھن کی فراہمی معطل کر دی جائے گی جبکہ سرکاری افسران کی گاڑیوں کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کے الاونس میں فوری طور پر 50 فیصد کمی کر دی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ صوبائی وزراء اور اعلیٰ سرکاری افسران کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں کی تعداد بھی محدود کر دی گئی ہے اور سیکیورٹی کے لیے صرف ایک گاڑی کی اجازت ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ سرکاری دفاتر میں ورک فرام ہوم پالیسی نافذ کی جائے گی اور صرف ضروری عملہ ہی دفاتر میں حاضر ہوگا۔ اس کے علاوہ صوبے بھر کے اسکول، کالج اور جامعات کل سے 31 مارچ تک بند رہیں گے، تاہم امتحانات اپنے شیڈول کے مطابق جاری رہیں گے اور اس دوران آن لائن کلاسز بھی منعقد کی جا سکتی ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے یہ بھی اعلان کیا کہ تمام سرکاری بیرونی تقریبات کو معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ نجی شعبے کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ جہاں ممکن ہو ورک فرام ہوم اپنایا جائے، غیر ضروری تقریبات سے گریز کیا جائے اور دفاتر میں صرف ضروری عملے کو تعینات کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کو ٹرانسپورٹ کرایوں کی سخت نگرانی اور اوورچارجنگ کے خلاف قانونی کارروائی کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ پنجاب بھر میں اشیائے ضروریہ کی فراہمی اور قیمتوں کی بھی کڑی نگرانی کی جائے گی۔

دوسری جانب پنجاب حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے لیے نئے معیاری طریقہ کار (SOPs) بھی متعارف کرائے ہیں۔ اس سلسلے میں صوبے بھر میں پیٹرولیم اسٹاک، ترسیل اور فروخت کی سخت نگرانی کی جائے گی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق محکمہ صنعت کو پیٹرولیم نگرانی کے لیے مرکزی ادارہ مقرر کیا گیا ہے جبکہ ایک خصوصی مانیٹرنگ نظام قائم کیا جائے گا جو ایندھن کی نقل و حرکت اور دستیابی کو ٹریک کرے گا۔ صوبے بھر کے آئل ڈپو کو روزانہ اسٹاک رپورٹ صوبائی کنٹرول روم میں جمع کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنرز کو پیٹرول پمپوں کا روزانہ معائنہ کرنے، ایندھن کی دستیابی اور سرکاری نرخوں پر فروخت کو یقینی بنانے کا ذمہ سونپا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ پیٹرولیم مانیٹرنگ کمیٹیاں بھی قائم کی جائیں گی۔

حکام کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے اور آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمت حالیہ دنوں میں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ بعض تخمینوں کے مطابق یہ قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات پاکستان کی معیشت، ٹرانسپورٹ، صنعت اور زراعت پر براہِ راست مرتب ہوتے ہیں کیونکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے اشیائے خوردونوش، ٹرانسپورٹ کرایوں اور پیداواری لاگت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

حکام کے مطابق پنجاب حکومت کے یہ اقدامات صوبے میں ایندھن کی مسلسل فراہمی برقرار رکھنے، مصنوعی قلت روکنے اور صارفین کو ممکنہ بحران سے محفوظ رکھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

ترکمانستان Previous post ترکمانستان کا قومی پرچم ترکیہ کے بلند ترین پہاڑ ماؤنٹ آرارات کی چوٹی پر لہرا دیا گیا
باکو Next post باکو میں “ہر آرٹ اِن ایکشن 2026” فیسٹیول کا افتتاح، لیلیٰ علیئیوا کی پینٹنگز بھی نمائش میں شامل