
مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی: صدر پرابوو سوبیانتو کی انڈونیشیا کو ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت
جکارتہ،یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر انڈونیشیا کو ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
انڈونیشیا کے وزیر خارجہ سوگیونو نے بتایا کہ صدر نے یہ ہدایت منگل کی شام جکارتہ کے مردیکا پیلس میں منعقدہ ایک اہم اجلاس کے دوران دی، جس میں سابق صدور، سابق نائب صدور، سابق وزرائے خارجہ اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما شریک تھے۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ صدر نے واضح طور پر ہدایت کی ہے کہ “جو بھی صورتحال پیدا ہو، ہمیں ہر ممکنہ صورتحال کے لیے تیار رہنا چاہیے۔”
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سوگیونو نے بتایا کہ انہوں نے تہران میں تعینات انڈونیشیا کے سفیر کو ہدایت دی ہے کہ جو انڈونیشی شہری وطن واپس آنا چاہتے ہیں، ان کے فوری انخلا کے اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں موجود تمام انڈونیشی شہریوں نے انخلا کی درخواست نہیں کی، تاہم ایران میں موجود بعض شہریوں نے وطن واپسی کی خواہش ظاہر کی ہے جس کے باعث ان کی مرحلہ وار واپسی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
وزیر خارجہ کے مطابق حکومت خطے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور بدلتی ہوئی صورت حال کے مطابق فیصلے کیے جائیں گے۔
سفارتی کوششوں کے حوالے سے سوگیونو نے بتایا کہ انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی رابطہ کیا، جس کے دوران انہوں نے مذاکرات کی ناکامی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدگی پر انڈونیشیا کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ انڈونیشیا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہر ملک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کا احترام کیا جانا چاہیے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنا ناگزیر ہے۔
سوگیونو کے مطابق انہوں نے ایرانی ہم منصب کو یہ بھی آگاہ کیا کہ صدر پرابوو سوبیانتو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔
منگل کو ہونے والے اس اجلاس میں جیو پولیٹیکل صورتحال سمیت مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں شریک سابق صدور اور نائب صدور میں چھٹے صدر سوسیلو بامبانگ یودھوئونو، ساتویں صدر جوکو ویدودو، دسویں اور بارہویں نائب صدر یوسف کالا، گیارہویں نائب صدر بوئیدیونو اور تیرہویں نائب صدر معروف امین شامل تھے۔
تقریباً ساڑھے تین گھنٹے جاری رہنے والا یہ اجلاس شام ساڑھے سات بجے شروع ہوا اور رات تقریباً گیارہ بجے اختتام پذیر ہوا۔