افغانستان

قابلِ اعتماد انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے: عطا اللہ تارڑ

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے پیر کے روز کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف قابلِ اعتماد انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کارروائیاں کر رہا ہے، جو ملک میں ہونے والے حملوں میں ملوث گروہوں کے خلاف کی جا رہی ہیں۔

غیر ملکی نشریاتی اداروں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے افغانستان میں کسی بھی شہری علاقے کو نشانہ نہیں بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کارروائیاں افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خلاف کی جا رہی ہیں، جو پاکستان کے خلاف سرحد پار حملوں میں ملوث ہیں۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان صرف دہشت گردوں کے ڈھانچے اور ان کے معاون نیٹ ورک کو نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار کو خیالی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کی وزارت دفاع کے ترجمان کی جانب سے پاکستان کے خلاف جنگی کامیابیوں کے دعوے غلط اور محض پروپیگنڈا ہیں۔

وفاقی وزیر نے افغان طالبان حکومت اور افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کی جانب سے جاری شہری ہلاکتوں کی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کابل میں اقوام متحدہ کے ادارے کی معلومات مکمل طور پر طالبان حکومت کی فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی جانب سے مشترکہ حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ طالبان حکومت اور افغان سرزمین سے سرگرم متعدد دہشت گرد تنظیموں کے درمیان گٹھ جوڑ موجود ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے کیے گئے تمام حملوں کا فوری اور مؤثر جواب دیا گیا، جبکہ پاکستان نے انتہائی درستگی کے ساتھ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو نشانہ بنایا، جن میں افغان طالبان کی بعض عسکری چوکیاں بھی شامل ہیں۔

انڈونیشیا Previous post انڈونیشیا میں تعلیمی معیار اور مساوی مواقع کے فروغ کے لیے 500 انٹیگریٹڈ اسکولز پروگرام شروع کرنے کا اعلان
ترکمانستان Next post ترکمانستان کا قومی پرچم ترکیہ کے بلند ترین پہاڑ ماؤنٹ آرارات کی چوٹی پر لہرا دیا گیا