کیر اسٹارمر

پیٹر مینڈلسن اسکینڈل کے بعد کیر اسٹارمر کے چیف آف اسٹاف مورگن میک سوئینی مستعفی

لندن، یورپ ٹوڈے: برطانیہ کے وزیرِاعظم کیر اسٹارمر کے چیف آف اسٹاف مورگن میک سوئینی نے پیٹر مینڈلسن کی تقرری سے متعلق تنازع کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ لیبر پارٹی کے متعدد ارکانِ پارلیمنٹ نے سابق لیبر رہنما لارڈ پیٹر مینڈلسن کو امریکا میں سفیر مقرر کرنے کے فیصلے کا ذمہ دار میک سوئینی کو قرار دیا تھا۔

لارڈ مینڈلسن کو گزشتہ ستمبر میں اس عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، تاہم حال ہی میں سامنے آنے والی نئی ایپسٹین فائلز، جن میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے بطور وزیرِ کابینہ سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ خفیہ معلومات شیئر کیں، اس معاملے کو دوبارہ سیاسی بحث کا مرکز بنا دیا۔

اپنے استعفے کے اعلان میں مورگن میک سوئینی نے کہا:
“پیٹر مینڈلسن کو مقرر کرنے کا فیصلہ غلط تھا۔ اس نے ہماری جماعت، ہمارے ملک اور سیاست پر عوامی اعتماد کو نقصان پہنچایا۔ جب مجھ سے رائے لی گئی تو میں نے وزیرِاعظم کو یہی مشورہ دیا اور میں اس مشورے کی مکمل ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔ عوامی زندگی میں ذمہ داری اس وقت قبول کی جانی چاہیے جب اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہو۔ ان حالات میں مستعفی ہونا ہی واحد باعزت راستہ ہے۔”

مورگن میک سوئینی نے کیر اسٹارمر کی لیبر پارٹی کی قیادت کی مہم میں کلیدی کردار ادا کیا تھا اور انہیں پارٹی کے بااثر ترین شخصیات میں شمار کیا جاتا تھا۔ تاہم پارٹی کے اندر بعض حلقوں کی جانب سے ان پر الزام لگایا جاتا رہا کہ وہ لیبر پارٹی کے بائیں بازو کو نظرانداز کر رہے ہیں۔ وہ لارڈ مینڈلسن کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ہی انہیں امریکا میں اعلیٰ سفارتی عہدے کے لیے ترجیح دی۔

استعفے پر ردِعمل دیتے ہوئے وزیرِاعظم کیر اسٹارمر نے کہا کہ مورگن میک سوئینی کے ساتھ کام کرنا ان کے لیے باعثِ اعزاز رہا۔
انہوں نے کہا:
“انہوں نے ہماری جماعت کو اس کی بدترین انتخابی شکست کے بعد سنبھالا دیا اور انتخابی مہم میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ان کی محنت، وفاداری اور قیادت کی بدولت ہی ہم بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے اور ملک میں تبدیلی کا موقع ملا۔”

کیر اسٹارمر نے مزید کہا کہ انہوں نے اپوزیشن اور حکومت دونوں ادوار میں میک سوئینی کے ساتھ قریبی طور پر کام کیا اور ان کی لیبر پارٹی اور ملک کے لیے وابستگی کو روزانہ کی بنیاد پر دیکھا۔ وزیرِاعظم کے مطابق پارٹی اور وہ خود مورگن میک سوئینی کے شکر گزار ہیں اور ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

جاپان Previous post جاپان کی حکمران جماعت کو پارلیمانی انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل
گابالا میں “باکو–نیپلز: ایک موسیقی پل” کے عنوان سے چیمبر میوزک کی شام، آذربائیجان اور اٹلی کے ثقافتی روابط کو اجاگر کرتی ہے Next post گابالا میں “باکو–نیپلز: ایک موسیقی پل” کے عنوان سے چیمبر میوزک کی شام، آذربائیجان اور اٹلی کے ثقافتی روابط کو اجاگر کرتی ہے