
محمد علی جناح: قانونی ذہن، اخلاقی اصول اور آئینی وفاداری
محمد علی جناح کو عموماً پاکستان کے بانی، عظیم سیاسی رہنما اور مسلم لیگ کے قائد کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ تاہم ان کی شخصیت کا ایک نہایت اہم مگر کم زیرِ بحث پہلو ان کا آئینی، قانونی اور اخلاقی وژن ہے، جو محض سیاست تک محدود نہیں تھا بلکہ برصغیر کے جدید ریاستی تصور کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ جناح کی زندگی کے اسی اہم پہلو یعنی ان کی بطور وکیل تربیت، آئینی سوچ اور قانون کی بالادستی پر غیر متزلزل یقین کی گواہی کا ثبوت کئی مصنفین اور ان کی زندگی کے عمل سے واضح ہوتے ہیں۔
محمد علی جناح نے لنکنز اِن، لندن سے قانون کی تعلیم حاصل کی، جہاں وہ مغربی آئینی روایت، پارلیمانی جمہوریت اور قانونی استدلال سے گہرے طور پر متاثر ہوئے۔ یہ تربیت محض پیشہ ورانہ نہیں تھی بلکہ ان کی فکری ساخت کا حصہ بن گئی۔ اسٹینلے وولپرٹ کے مطابق:
“Jinnah never took a case he believed to be dishonest, no matter how profitable it was.”
(Stanley Wolpert, Jinnah of Pakistan, Oxford University Press)
یہی وجہ ہے کہ جناح نے پوری سیاسی زندگی میں احتجاج، بغاوت یا تشدد کے بجائے قانونی، دستوری اور مذاکراتی راستہ اختیار کیا۔
جناح کا کانگریس سے اصل اختلاف مذہبی نہیں بلکہ آئینی اور ادارہ جاتی تھا۔ وہ اکثریتی جمہوریت کے ایسے تصور کے خلاف تھے جس میں اقلیتوں کے حقوق تحریری ضمانت کے بغیر محض وعدوں پر چھوڑ دیے جائیں۔ آئین ساز اسمبلیوں، گول میز کانفرنسوں اور مذاکرات میں جناح بار بار اس نکتے پر زور دیتے رہے کہ آئین اقلیتوں کے حقوق کا محافظ ہو، وفاقی نظام مضبوط ہو اور مرکز اور صوبوں کے اختیارات واضح ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ 1916 کے لکھنؤ پیکٹ کو اپنی بڑی کامیابی سمجھتے تھے، کیونکہ ان کی سیاست کا ابتدائی دور مکمل طور پر ہندو مسلم اتحاد کے لیے وقف تھا اور لکھنؤ پیکٹ میں انہوں نے کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان آئینی مفاہمت کروا کر مسلمانوں کے سیاسی حقوق کو تسلیم کروایا۔یہ پہلو اکثر اس بیانیے میں دب جاتا ہے جو جناحؒ کو محض علیحدگی پسند رہنما کے طور پر پیش کرتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ طویل عرصے تک متحدہ مگر وفاقی ہندوستان کے حامی رہے۔
جناح کی شخصیت کا ایک اور کم زیرِ بحث پہلو اخلاقی قانون پسندی ہے۔ وہ قانون کو محض طاقت کا آلہ نہیں بلکہ اخلاقی نظم کا ضامن سمجھتے تھے۔ہیكٹر بولیتھو لکھتے ہیں:
“He believed law without morality was tyranny, and morality without law was chaos.” (Hector Bolitho)
یہی فلسفہ ان کی تقاریر، خطوط اور سیاسی حکمتِ عملی میں مسلسل نظر آتا ہے۔
ان کے ہاں اقلیتوں کے تحفظ کا تصور خالصتاً آئینی بنیادوں پر استوار تھا۔ وہ مذہبی اکثریت یا اقلیت کے تصور کو سیاسی فیصلوں کا واحد معیار نہیں بنانا چاہتے تھے۔ان کی 11 اگست 1947ء کی تقریر کو عموماً سیکولر بمقابلہ مذہبی ریاست کی بحث میں الجھا دیا جاتا ہے، حالانکہ اصل میں یہ تقریر آئینی شہریت کا خاکہ پیش کرتی ہے۔
ایچ۔ وی۔ ہوڈسن لکھتے ہیں:
“Jinnah’s vision was of a state where citizenship, not religion, was the basis of political rights.”
(H. V. Hodson, The Great Divide)
جناح نے خود 11اگست 1947 کی تقریر اس حوالے سے واضح طور پر کہا کہ
“You are free; you are free to go to your temples, you are free to go to your mosques…”
یہ بیان جناح کے اس یقین کو ظاہر کرتا ہے کہ ریاست کا کردار شہری حقوق کا تحفظ ہے، نہ کہ مذہبی نگرانی۔
جناحؒ نے کبھی انقلاب کا نعرہ نہیں لگایا، نہ بندوق اٹھائی، نہ ہجوم کو ریاست کے خلاف کھڑا کیا۔ ان کا یقین تھا کہ طاقت وقتی فتح دیتی ہے، مگر دلیل مستقل ریاست بناتی ہے۔ لارڈ ماونٹ بیٹن کے مطابق:
“Jinnah negotiated like a barrister, not like a revolutionary.”
جناح نے کبھی عوامی ہجوم کو تشدد پر نہیں اکسایا۔ ان کی سیاست میں سول نافرمانی ثانوی رہی ہمیشہ عدالتی اور آئینی راستہ بنیادی رہا اور ریاستی اداروں کا احترام مرکزی اصول تھا۔ یہ رویہ اس زمانے کے کئی دیگر رہنماؤں سے مختلف تھا، جو جذباتی نعروں اور عوامی دباؤ پر انحصار کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ گاندھی کی تحریکِ عدم تعاون اور بعد میں سول نافرمانی سے فاصلہ رکھتے رہے۔
عائشہ جلال کے مطابق:
“Jinnah’s politics were rooted in constitutionalism, not populism.”
(Ayesha Jalal, The Sole Spokesman, Cambridge University Press)
جناحؒ اقلیتوں کو صرف عددی مسئلہ نہیں بلکہ آئینی اکائی سمجھتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اکثریت کی آمریت بھی جمہوریت کے لیے اتنی ہی خطرناک ہے جتنی آمریت۔ ہیکٹر بولیتھو لکھتے ہیں:۔
“Jinnah feared not democracy, but democracy without safeguards.”
(Hector Bolitho, Jinnah: Creator of Pakistan)
یہی سوچ بعد میں پاکستان کے مطالبے کی آئینی بنیاد بنی۔جناحؒ کے سیاسی فلسفے کا بنیادی ستون وفاقیت یعنی فیڈرل ازم تھا۔ وہ ایک ایسے سیاسی نظام کے قائل تھے جس میں مرکز طاقتور ہو مگر صوبوں کی خودمختاری بھی محفوظ رہے۔کیتھ کالارڈ کے مطابق:
“Jinnah consistently argued for a federal constitution with maximum autonomy for units.”
(Keith Callard, Pakistan: A Political Study)
یہی سوچ بعد میں قراردادِ لاہور (1940ء) میں بھی جھلکتی ہے، جسے عام طور پر محض علیحدگی کی قرارداد سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ اس میں “خودمختار ریاستیں” اور “اکائیوں” کی اصطلاحات ایک کنفیڈرل رجحان کی نشاندہی کرتی ہیں۔ جناحؒ کی سیاست میں لچک،اور اصول پسندی ایک ساتھ نظر آتی ہیں۔ وہ آخری لمحے تک آئینی مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرتے تھے۔ کابینہ مشن پلان (1946ء) کو قبول کرنا اسی حکمتِ عملی کی مثال ہے، حالانکہ بعد میں حالات نے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد جناحؒ کی توجہ فوری طور پر آئینی استحکام پر مرکوز رہی۔ گورنر جنرل کی حیثیت سے انہوں نے بارہا قانون کی حکمرانی، ادارہ جاتی نظم اور صوبائی ہم آہنگی پر زور دیا۔ بدقسمتی سے ان کی مختصر زندگی نے انہیں اپنے آئینی وژن کو مکمل طور پر نافذ کرنے کا موقع نہ دیا۔
لیکن اب جناح کے قانونی اور آئینی وژن کو نظرانداز کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں آئینی تسلسل کمزور ہوا، ادارہ جاتی توازن بگڑا اور قانون کی بالادستی کمزور پڑی۔ اگر جناح کے اس پہلو کو سنجیدگی سے اپنایا جاتا تو شاید پاکستان کی آئینی تاریخ زیادہ مستحکم ہوتی۔محمد علی جناح کی شخصیت محض ایک سیاسی قائد تک محدود کرنے کے بجائے ایک قانونی مفکر، آئینی دانشور اور اخلاقی ریاست کے داعی کے طور پر دیکھنا چاہیے کیونکہ کہ وہ طاقت، جذبات اور اکثریت کے شور کے بجائے قانون، آئین اور اصولوں پر یقین رکھتے تھے۔آج پاکستان کو درپیش آئینی، سیاسی اور ادارہ جاتی بحرانوں کے تناظر میں جناح کے اس پہلو کا ازسرِنو مطالعہ ناگزیر ہے۔ جناح کو صرف نعروں میں نہیں بلکہ ان کے آئینی وژن میں تلاش کرنا ہی ان کے ساتھ حقیقی وفاداری ہو گی۔