قدرتی آفات اور حاکمیت الٰہی

قدرتی آفات اور حاکمیت الٰہی

چند روز قبل، 28 مارچ 2025 کو میانمار میں 7.7 شدت کا زلزلہ آیا، جس کا مرکز منڈالے کے قریب تھا۔ اس تباہ کن زلزلے نے میانمار، تھائی لینڈ اور دیگر قریبی علاقوں میں بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ تباہی اتنی شدید تھی کہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے قیامت برپا ہو گئی ہو۔ ہر مذہب اور طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ بے بس نظر آئے، اپنی جانیں بچانے کے لیے ہر شخص سر دھڑ کی بازی لگاتا ہوا نظر آیا۔ ایسے نازک لمحات میں انسانی بے بسی واضح ہو جاتی ہے، اور اس حقیقت کا ادراک ہوتا ہے کہ حقیقی اور مطلق طاقت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔

اس زلزلے کے نتیجے میں میانمار میں 2,700 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، ہزاروں زخمی اور لاپتہ ہو گئے۔ اسپتال مریضوں سے بھر گئے اور طبی امداد کھلے آسمان تلے فراہم کی جانے لگی۔ تھائی لینڈ میں ایک بلند عمارت کے گرنے سے کم از کم 22 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ 76 افراد لاپتہ ہیں۔ چین کے صوبوں یونان اور سیچوان میں بھی عمارتوں کو نقصان پہنچا، اور ویتنام کے شہر ہو چی من میں 300 سے زائد اپارٹمنٹس متاثر ہوئے، تاہم وہاں بڑے پیمانے پر جانی نقصان نہیں ہوا۔ بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچا، میانمار میں 10,000 سے زائد عمارتیں، بشمول اسپتال اور پل، تباہ ہو گئے۔ سڑکیں، بجلی کے کھمبے اور مواصلاتی نیٹ ورک تباہ ہونے کے باعث امدادی کاموں میں مشکلات پیش آئیں۔ تھائی لینڈ میں 2007 سے پہلے تعمیر شدہ عمارتیں زلزلے کے جھٹکوں کا سامنا نہ کر سکیں۔ 236 سے زائد آفٹر شاکس، جن میں ایک 6.7 شدت کا جھٹکا بھی شامل تھا، مزید تباہی کا باعث بنے۔

قرآن پاک بار بار انسان کو یاد دلاتا ہے کہ تمام قدرتی آفات، چاہے وہ زلزلے ہوں، طوفان ہوں یا وبائیں، اللہ کے حکم سے ہی وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ وہی زمین و آسمان کا مالک ہے، اور اس کے حکم کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں۔ سورہ الزلزال (99:1) میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “جب زمین اپنی پوری شدت کے ساتھ ہلا دی جائے گی، اور زمین اپنے بوجھ باہر نکال دے گی۔” یہ آیت واضح کرتی ہے کہ زمین کی بنیادوں کو ہلانے کی طاقت صرف اللہ کے پاس ہے۔ کوئی بھی سائنسی ترقی، عسکری قوت یا دنیاوی اقتدار اس کے فیصلے کو روکنے کی قدرت نہیں رکھتا۔

تاریخ گواہ ہے کہ بڑی بڑی سلطنتیں ابھریں اور زوال پذیر ہو گئیں، مگر کوئی بھی اللہ کی مشیت سے نہیں بچ سکا۔ جو قومیں خود کو ناقابل تسخیر سمجھتی تھیں، وہ مٹی میں مل گئیں۔ سورہ الانعام (6:65) میں اللہ فرماتے ہیں: “کہو، وہی ہے جو تم پر اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیج سکتا ہے یا تمہیں گروہوں میں بانٹ کر آپس میں لڑا سکتا ہے اور ایک دوسرے پر ظلم و تشدد کا مزہ چکھا سکتا ہے۔” یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ کی گرفت مختلف انداز میں آ سکتی ہے، خواہ وہ قدرتی آفات کی صورت میں ہو یا انسانی تنازعات کی شکل میں۔

یہ تصور کہ کوئی ملک، قوم یا فرد لامحدود طاقت رکھتا ہے، ایک سراب کے سوا کچھ نہیں۔ سورہ الملک (67:16) میں اللہ فرماتے ہیں: “کیا تمہیں اس ذات سے بے خوفی ہو گئی ہے جو آسمان میں ہے کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا نہ دے اور وہ اچانک لرزنے لگے؟ یا کیا تمہیں اس ذات سے بے خوفی ہو گئی ہے جو آسمان میں ہے کہ وہ تم پر پتھر برسانے والی آندھی نہ بھیج دے؟ پھر تم جان لو گے کہ میرا انتباہ کیسا تھا۔” ان آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بھی اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “سب سے مضبوط مومن وہ ہے جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اور یہ تسلیم کرتا ہے کہ ہر چیز اسی کے حکم سے ہوتی ہے۔” (صحیح مسلم) حقیقی طاقت دولت یا فوجی قوت میں نہیں بلکہ اللہ کے سامنے جھکنے میں ہے۔

ظلم و جبر، چاہے کتنا ہی طاقتور نظر آئے، اللہ کی عدالت میں زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ سورہ الشوریٰ (42:42-43) میں اللہ فرماتے ہیں: “ملامت صرف انہی لوگوں پر ہے جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور ناحق زمین میں سرکشی کرتے ہیں۔ ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ اور جو صبر کرے اور معاف کر دے، تو یہ بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہے۔” اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ ظلم و ستم کرنے والوں کو اللہ کے قہر کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ ایمان والوں کو صبر اور استقامت کا صلہ ملے گا۔

تاریخ میں کئی لوگوں نے اللہ کی قدرت کو چیلنج کرنے کی کوشش کی، مگر ان کا انجام عبرتناک ہوا۔ فرعون، جس نے خود کو خدا کہلوانا چاہا، اپنے لشکر سمیت غرق ہو گیا۔ نمرود، جس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مخالفت کی، ایک معمولی مچھر کے ذریعے ہلاک کر دیا گیا۔ یہ مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ تکبر اور اللہ کی نافرمانی ہمیشہ تباہی کا سبب بنتی ہیں۔

حالیہ زلزلہ بھی اللہ کی قدرت کا ایک اور مظہر ہے۔ یہ انسانیت کے لیے ایک انتباہ ہے کہ وہ غور و فکر کرے، توبہ کرے، اور تسلیم کرے کہ کسی ملک یا فرد کے پاس مطلق اختیار نہیں ہے۔ طاقت اور اختیار صرف اللہ کے پاس ہے۔ وہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کر دے۔ سورہ آل عمران (3:26) میں اللہ فرماتے ہیں: “کہو، ‘اے اللہ! بادشاہی کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے چھین لے۔ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کر دے۔ بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ بے شک، تو ہر چیز پر قادر ہے۔”

لہٰذا، کسی کو بھی یہ گمان نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اللہ کی تقدیر سے محفوظ ہے۔ حقیقی طاقتور کوئی ملک یا فرد نہیں، بلکہ زمین و آسمان کا خالق ہے۔ وہی زندگی اور موت، خوشحالی اور مصیبت، سب کا مالک ہے۔ اس حالیہ تباہی کو پوری انسانیت کے لیے ایک پیغام سمجھنا چاہیے کہ وہ اللہ کی طرف رجوع کرے، اس کی رحمت طلب کرے، اور اس کی برتری کو تسلیم کرے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کا پرائیویٹ حج کوٹہ میں کمی کا سخت نوٹس، تین رکنی انکوائری کمیٹی قائم Previous post وزیر اعظم شہباز شریف کا پرائیویٹ حج کوٹہ میں کمی کا سخت نوٹس، تین رکنی انکوائری کمیٹی قائم
ازبکستان اور قازقستان کے صدور کی دوطرفہ تعلقات اور اسٹریٹجک تعاون پر اہم ملاقات Next post ازبکستان اور قازقستان کے صدور کی دوطرفہ تعلقات اور اسٹریٹجک تعاون پر اہم ملاقات