انڈونیشیا

انڈونیشیا میں خام تیل ذخیرہ کرنے کی نئی تنصیبات تعمیر ہوں گی، غیر ملکی و مقامی سرمایہ کار متفق

جکارتہ،یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے وزیر توانائی و معدنی وسائل باہلیل لہدالیا نے تصدیق کی ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے انڈونیشیا میں خام تیل کے ذخیرہ کرنے کی تنصیبات تعمیر کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

بدھ کے روز جکارتہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر توانائی نے کہا کہ اس منصوبے کے لیے سرمایہ کاری اور سرمایہ کار پہلے ہی موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان تنصیبات کی تعمیر میں مقامی اور غیر ملکی دونوں ادارے شامل ہوں گے تاہم غیر ملکی سرمایہ کاروں کا تعلق امریکہ سے نہیں ہے۔

باہلیل لہدالیا نے مزید کہا کہ اس منصوبے میں سرکاری و نجی شعبے کی مشترکہ سرمایہ کاری شامل ہوگی جبکہ خام تیل ذخیرہ کرنے کی تنصیبات نجی کمپنیاں تعمیر کریں گی، جو انڈونیشیا کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گی۔

انہوں نے بتایا کہ ان تنصیبات کا مقصد انڈونیشیا کی توانائی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے حکومت ملک کی زیادہ سے زیادہ تیل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو موجودہ 25 سے 26 دن سے بڑھا کر 90 دن (تقریباً تین ماہ) تک لے جانا چاہتی ہے۔

وزیر توانائی کے مطابق صدر پرابوو سوبیانتو نے فوری طور پر تیل ذخیرہ کرنے کی سہولیات تعمیر کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو اپنی بقا اور توانائی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس شعبے میں خود انحصاری حاصل کرنا ہوگی، ورنہ انحصار برقرار رہے گا۔

ادھر امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث انڈونیشیا میں توانائی کی سلامتی عوامی تشویش کا بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔

گزشتہ دنوں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے مختلف مقامات، جن میں تہران بھی شامل ہے، پر حملے کیے جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقصان اور شہری ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیلی علاقوں اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی تنصیبات کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔

بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مشترکہ امریکی۔اسرائیلی کارروائی میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے ہیں، جس کی تصدیق بعد میں ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے بھی کی۔

ایرانی میڈیا کے مطابق حملوں کے بعد آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کر دیا گیا ہے، اگرچہ باضابطہ ناکہ بندی کا اعلان نہیں کیا گیا۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل تجارت کے تقریباً پانچویں حصے کی گزرگاہ ہے جبکہ قطر اور متحدہ عرب امارات سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی بڑی مقدار بھی اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ دنیا بھر میں یومیہ استعمال ہونے والے تقریباً 20 ملین بیرل تیل یعنی عالمی کھپت کا لگ بھگ 20 فیصد اسی اہم سمندری راستے سے گزرتا ہے۔

ویتنام Previous post ویتنام کی معیشت کو نئی رفتار دینے کا فیصلہ، وزیر اعظم کی سرمایہ کاری، برآمدات اور ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے کی ہدایت
آسٹریلیا Next post مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال: آسٹریلیا نے ہنگامی تیاریوں کے تحت فوجی وسائل تعینات کر دیے