اسحاق ڈار

او آئی سی اجلاس: اسحاق ڈار کا اسرائیلی آبادکاری اور الحاق کی کوششیں روکنے کے لیے اجتماعی اقدام کا مطالبہ

جدہ،یورپ ٹوڈے: نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے عالمی برادری اور مسلم ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاری کے پھیلاؤ اور الحاق کی کوششوں کو روکنے کے لیے مشترکہ اور فیصلہ کن اقدامات کریں۔

وہ جمعہ کو جدہ میں منعقدہ تنظیمِ تعاونِ اسلامی (او آئی سی) کی ایگزیکٹو کمیٹی کے غیر معمولی کھلے وزارتی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی مسلسل خلاف ورزیاں مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے امکانات کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ مسئلۂ فلسطین امتِ مسلمہ کے لیے مرکزی اہمیت رکھتا ہے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور کثیرالجہتی عالمی نظام کے لیے سنگین چیلنج ہیں۔

انہوں نے اس اجلاس کے انعقاد پر گیمبیا، ترکیہ، سعودی عرب اور ریاستِ فلسطین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس اسرائیل کے غیر قانونی اقدامات اور مقبوضہ فلسطینی زمین پر خودمختاری مسلط کرنے کی کوششوں کے تناظر میں نہایت اہم ہے۔

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اگرچہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے جامع فریم ورک پر عملدرآمد کی سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم جنگ بندی کی خلاف ورزیاں اور آبادکاری کی سرگرمیاں امن اقدامات کو سبوتاژ کر رہی ہیں۔

انہوں نے ستمبر 2025 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ہونے والی مشاورت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سمیت آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے رہنماؤں نے امریکی قیادت سے ملاقات کر کے مغربی کنارے کے الحاق کو روکنے کی یقین دہانی حاصل کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم زمینی حقائق مسلسل آبادکاری اور عملی الحاق کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

اسحاق ڈار نے اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے بعض حصوں کو “ریاستی ملکیت” قرار دینے کے فیصلوں کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے منتخب رکن کی حیثیت سے فلسطینی کاز کو عالمی فورمز پر بھرپور انداز میں اجاگر کرتا رہے گا۔

انہوں نے اہم ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ الحاق کے اقدامات کی واپسی، مسجدِ اقصیٰ سمیت مقدس مقامات کا تحفظ، جبری بے دخلی اور آبادیاتی تبدیلیوں کا خاتمہ، اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر مکمل عملدرآمد ناگزیر ہے۔ انہوں نے غزہ کی تعمیرِ نو فلسطینی ملکیت میں کرنے اور بین الاقوامی انسانی قانون کی مبینہ خلاف ورزیوں پر احتساب کا بھی مطالبہ کیا۔

وزیرِ خارجہ نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے ان بیانات کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا جن میں عرب علاقوں پر اسرائیلی کنٹرول کو قبول کرنے کا عندیہ دیا گیا تھا، اور کہا کہ یہ بیانات بین الاقوامی قانون سے متصادم ہیں۔

انہوں نے فلسطین اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے درمیان مماثلت کا ذکر کرتے ہوئے او آئی سی پر زور دیا کہ مسئلۂ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے بھی کوششیں تیز کی جائیں۔

اسحاق ڈار نے فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان 1967 سے قبل کی سرحدوں اور القدس الشریف کو دارالحکومت تسلیم کرنے پر مبنی دو ریاستی حل کی حمایت جاری رکھے گا۔

اجلاس کے موقع پر وزیرِ خارجہ نے فلسطینی ہم منصب ڈاکٹر ورسن آغابیکیان شاہین سے ملاقات کی، جس میں غزہ کی انسانی بحران کی صورتحال، بلا رکاوٹ امداد کی فراہمی اور فوری تعمیرِ نو پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

انہوں نے مالدیپ کے وزیرِ خارجہ عبداللہ خلیل اور ترکیہ کے نائب وزیرِ خارجہ موسیٰ کولا کلیکایا سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں فلسطینی حقوق کی حمایت اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔

ان ملاقاتوں کے دوران پاکستان نے صومالیہ کی خودمختاری سے یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو علیحدہ ریاست تسلیم کرنے کی مذمت کی، اور کہا کہ پاکستان اور صومالیہ کے تعلقات تاریخی و ثقافتی رشتوں پر مبنی ہیں جبکہ تجارت، ٹیکنالوجی اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون کے امکانات موجود ہیں۔

کواڈ کاپٹر Previous post ملک بھر میں ڈرون اور کواڈ کاپٹر اڑانے پر فوری پابندی عائد، خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا حکم
ترکمانستان Next post ای بی آر ڈی کی رپورٹ: ترکمانستان کی معیشت 2027 تک مثبت نمو برقرار رکھنے کی توقع