غضب للحق

آپریشن غضب للحق: 331 شدت پسند ہلاک، متعدد افغان عسکری تنصیبات تباہ — حکومتی و عسکری قیادت کا دوٹوک مؤقف

اسلام آباد،یورپ ٹوڈے: وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ آپریشن “غضب للحق” کے دوران اب تک 331 طالبان رجیم کے اہلکار اور خوارج ہلاک جبکہ 500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ اپنے بیان میں انہوں نے بتایا کہ تباہ کیے گئے ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کی تعداد 163 تک پہنچ گئی ہے، 104 طالبان چوکیاں مکمل طور پر تباہ کی جا چکی ہیں جبکہ 22 چوکیاں پاکستان کے قبضے میں آ چکی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان بھر میں 37 مقامات کو فضائی کارروائیوں میں مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا۔ اس سے قبل ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس بریفنگ میں آپریشن کی تفصیلات سے آگاہ کیا تھا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مختلف سیکٹرز میں افغان طالبان کی متعدد پوسٹس تباہ کی گئیں، جن میں قلعہ سیف اللہ، نوشکی، چترال، زؤبا اور دیگر سرحدی علاقے شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کے دوران افغان طالبان کے اوماری کیمپ، خیبر پوسٹ، آریانہ کمپلیکس، دبگئی چیک پوسٹ اور دیگر عسکری مراکز کو بھاری نقصان پہنچا۔

مزید برآں، پاک فضائیہ نے کابل اور پکتیا میں اہم ملٹری تنصیبات کو نشانہ بنایا جہاں دو بریگیڈ ہیڈکوارٹرز اور ایک کور ہیڈکوارٹر تباہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ قندھار میں بھی بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، ایمونیشن ڈپو اور لاجسٹکس بیس کو نشانہ بنایا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران افغان فورسز کو متعدد مقامات پر چوکیاں چھوڑ کر پسپائی اختیار کرنا پڑی اور بعض پوسٹس پر سفید جھنڈا بھی لہرایا گیا۔ پاکستانی افواج نے بعض اہم پوسٹس پر کنٹرول حاصل کر کے قومی پرچم لہرا دیا۔

ادھر افغان طالبان کی جانب سے سرحدی علاقوں میں فائرنگ اور مبینہ شیلنگ کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ باجوڑ میں مارٹر گولے گرنے سے پانچ افراد زخمی ہوئے، جن میں تین خواتین شامل ہیں۔ زخمیوں کو خار اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ایک مسجد کو بھی نقصان پہنچا۔

سیاسی و عسکری قیادت کا مؤقف
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے واضح کیا کہ پاکستان امن اور علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور قومی سلامتی پر کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ مسلح افواج ملک کے دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں اور دشمن کی ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بھی افغان طالبان کی کارروائیوں کو “سنگین غلطی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج بھرپور جواب دے رہی ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افغان سرحد پر صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی قسم کی جارحیت کا فوری اور سخت جواب دینے کے لیے افواج مکمل طور پر تیار ہیں۔

اسحاق ڈار Previous post خطے کی صورتحال پر تشویش: اسحاق ڈار اور سعودی وزیرِ خارجہ کا رابطہ، قریبی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق
ٹی ٹوئنٹی Next post ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: پاکستان سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر، گروپ 2 سے نیوزی لینڈ کی کوالیفکیشن