
پاکستان کا متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر قرض واپسی کا فیصلہ، معاشی حکمتِ عملی میں اہم پیش رفت
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر کا قرض رواں ماہ واپس کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جسے حکومتی حلقوں نے ایک اہم معاشی اور سفارتی قدم قرار دیا ہے۔
اسلام آباد میں اینکرپرسنز کو بریفنگ دیتے ہوئے کابینہ کے ایک سینئر وزیر نے بتایا کہ یہ قرض، جو حال ہی میں ایک ماہ کے لیے رول اوور کیا گیا تھا، مکمل طور پر واپس کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت نے اس حوالے سے واضح فیصلہ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے حاصل کردہ قرض کی ادائیگی یقینی بنائی جائے۔
حکومت کے ایک اور عہدیدار کے مطابق مجموعی رقم میں 450 ملین ڈالر کا وہ قرض بھی شامل ہے جو 1996-97 میں حاصل کیا گیا تھا اور اب تقریباً 30 سال بعد واپس کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس بات پر بھی غور کیا جا رہا ہے کہ واپسی کی جانے والی رقم میں سے کچھ حصہ سرمایہ کاری کی صورت میں دوبارہ منتقل کیا جا سکے۔
حکام نے بتایا کہ ماضی میں متحدہ عرب امارات قرض کے رول اوور میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتا رہا، تاہم حالیہ علاقائی صورتحال، خصوصاً امریکا-اسرائیل-ایران کشیدگی، کے باعث یہ عمل تیز ہوا اور اب قرض کی واپسی کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ رواں سال جنوری میں میڈیا رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات نے ایک ارب ڈالر کے دو قرضے صرف ایک ماہ کے لیے رول اوور کیے تھے، جبکہ پاکستان نے انہیں دو سال کے لیے 3 فیصد شرح سود پر بڑھانے کی درخواست کی تھی۔ تاہم امارات نے انہیں 6.5 فیصد شرح سود پر پرانی شرائط کے تحت برقرار رکھا۔
پاکستان اس وقت عالمی مالیاتی ادارہ کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت ہے، جس کے لیے متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور چین نے مشترکہ طور پر 12.5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں برقرار رکھنے کا وعدہ کر رکھا ہے، تاکہ پروگرام کی مدت مکمل ہونے تک ملک کی مالی ضروریات پوری کی جا سکیں۔