
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا مشرقِ وسطیٰ بحران پر مؤثر کردار، فلسطین کے قیام اور امن عمل پر زور
نیویارک، یورپ ٹوڈے: اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران کے تناظر میں اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دیرینہ تنازعات، خصوصاً غیر ملکی قبضے سے پیدا ہونے والے مسائل کا حل ترجیحی بنیادوں پر ہونا چاہیے۔
انہوں نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی کوششوں کو ایک مقررہ مدت پر مبنی اور ناقابلِ واپسی سیاسی عمل کی جانب لے جانا چاہیے، جو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے تحت ایک خودمختار، آزاد اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام پر منتج ہو، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
یہ اجلاس اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے منعقد ہوا، جبکہ اسی سلسلے میں خلیجی تعاون کونسل کے ساتھ بھی مشاورت کی گئی۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ عرب لیگ اور سلامتی کونسل دونوں کے لیے یہ ایک اہم ترجیح ہے کہ خود ارادیت کے حق سے محرومی اور غیر قانونی قبضے جیسے مسائل کو حل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام مسلسل قبضے اور بے دخلی کا شکار ہیں، اور مطالبہ کیا کہ اسرائیل فلسطین، شام اور لبنان سمیت تمام عرب علاقوں سے اپنا غیر قانونی قبضہ ختم کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تنظیمِ تعاون اسلامی اور عرب ممالک کی نمائندگی عالمی سطح پر نہایت اہم ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، خصوصاً ایران کے خلاف جاری جنگ کے تناظر میں عاصم افتخار احمد نے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک کو اپنی سرزمین پر حملوں کا سامنا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل میں رکاوٹیں بھی تشویشناک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر امن و استحکام کے فروغ کے لیے سرگرم ہے، اور گزشتہ برس منظور ہونے والی سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 اس عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط نے کہا کہ سلامتی کونسل کے ساتھ تعاون ایک اسٹریٹجک ضرورت ہے، کیونکہ خطے کو درپیش خطرات باہم جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے خلیجی ممالک، اردن اور عراق پر ایرانی حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش عالمی تجارت کے لیے رکاوٹ بن رہی ہے۔
انہوں نے مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری پالیسیوں کی بھی مذمت کرتے ہوئے لبنان کے خلاف جارحیت کو خطے کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔
اقوام متحدہ کے حکام نے غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم کرنے، لبنان میں قرارداد 1701 پر عملدرآمد، شام میں سیاسی عمل کی بحالی، لیبیا اور سوڈان میں تنازعات کے خاتمے اور صومالیہ میں جامع مکالمے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ عرب خطے اور اس سے باہر کے عوام کے مفاد میں اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے درمیان شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔