پاکستان

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف، فلسطینی حقِ خودارادیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ

نیویارک،یورپ ٹوڈے: پاکستان نے فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے اپنی دیرینہ اور اصولی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ تنازع کے منصفانہ حل کے لیے مسلسل اور مؤثر سفارتی کوششوں پر زور دیا ہے۔ یہ مؤقف بدھ کے روز اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے فلسطین کے مسئلے پر منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران پیش کیا گیا۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے نیویارک میں سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کا اصولی مؤقف ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ انصاف کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں، احتساب کے بغیر استحکام قائم نہیں ہو سکتا، اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے عملی نفاذ کے بغیر کوئی بھی حل دیرپا اور قابلِ قبول نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے اپنی کوششیں تیز کرے اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اقدامات کو یقینی بنائے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے فلسطینی عوام کے بنیادی اور جائز حقوق کا احترام ناگزیر ہے۔

نائب وزیراعظم نے اس امر پر بھی زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے اور دیرپا امن کے قیام کے لیے سنجیدہ سفارتی اقدامات اور بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار جاری رکھے گا اور ان کے حقِ خودارادیت سمیت تمام بنیادی حقوق کے حصول کے لیے عالمی سطح پر آواز بلند کرتا رہے گا۔

غزہ Previous post غزہ میں قیامِ امن کی کوششوں میں کردار ادا کریں گے، حماس کو غیر مسلح کرنے کی کسی مہم کا حصہ نہیں بنیں گے: دفترِ خارجہ