پاکستان

پاکستان نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچا لیا

Read Time:4 Minute, 17 Second

دنیا اس وقت غیر یقینی صورتحال، علاقائی تنازعات اور عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کے نازک دور سے گزر رہی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی ملک امن، استحکام اور سفارتکاری کے ذریعے تنازعات کو کم کرنے میں کردار ادا کرے تو وہ نہ صرف اپنی ساکھ مضبوط کرتا ہے بلکہ عالمی برادری میں ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ابھرتا ہے۔ حالیہ ایران۔امریکہ کشیدگی کے تناظر میں پاکستان نے یہی کردار ادا کیا، جو قابلِ تحسین بھی ہے اور باعثِ فخر بھی۔

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے ایک متوازن، دانشمندانہ اور مؤثر سفارتی حکمت عملی اپنائی۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد خطے میں امن کا قیام، کشیدگی میں کمی اور کسی بھی بڑے تصادم کو روکنا تھا۔ پاکستان نے نہ صرف اپنے برادر اسلامی ملک ایران کے ساتھ تعلقات کو مدنظر رکھا بلکہ عالمی طاقت امریکہ کے ساتھ بھی ذمہ دارانہ رابطہ قائم رکھا۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کامیابی کا راز اس کی غیر جانبداری اور امن پسندی میں پوشیدہ ہے۔ اس موقع پر پاکستان نے پسِ پردہ سفارتکاری، بیک ڈور ڈپلومیسی اور اعلیٰ سطحی رابطوں کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی میں اہم کردار ادا کیا۔ ذرائع کے مطابق، پاکستان نے کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پیغام رسانی، ثالثی اور اعتماد سازی کے اقدامات میں کلیدی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں جنگ بندی ممکن ہوئی۔

یہ کردار اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ پاکستان خود ایک ایٹمی طاقت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر امن کے فروغ کا خواہاں ہے۔ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھتی تو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہ رہتا۔ ایسے میں پاکستان کی بروقت مداخلت نے ایک ممکنہ بڑے بحران کو ٹالنے میں مدد دی۔

وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے عالمی سطح پر فعال سفارتکاری کو فروغ دیا، جبکہ عاصم منیر کی عسکری بصیرت نے اس حکمت عملی کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔ دونوں قیادتوں کے درمیان ہم آہنگی نے پاکستان کو ایک مؤثر ثالث کے طور پر پیش کیا، جو نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کرتا ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی کردار ادا کرتا ہے۔

پاکستان کی اس کامیاب سفارتی کاوش نے عالمی سطح پر اس کے وقار میں اضافہ کیا ہے۔ دنیا نے دیکھا کہ پاکستان صرف ایک علاقائی طاقت نہیں بلکہ ایک ذمہ دار اور امن پسند ملک ہے جو مشکل حالات میں بھی مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ایران۔امریکہ جنگ بندی میں پاکستان کا کردار ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ صرف ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ قوم کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے نہایت دانشمندی کے ساتھ حالات کا جائزہ لیتے ہوئے ایسا کردار ادا کیا جس نے نہ صرف کشیدگی کم کرنے میں مدد دی بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں بھی اضافہ کیا۔ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی رابطوں کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس تمام عمل میں سعودی عرب، چین اور روس جیسے اہم ممالک کا کردار بھی قابلِ ذکر رہا۔ سعودی عرب نے بطور ایک اہم اسلامی ملک خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھیں اور پاکستان کے ساتھ قریبی مشاورت میں رہا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ تعلقات نے اس عمل کو مزید مؤثر بنایا۔

اسی طرح چین، جو پاکستان کا قریبی دوست اور اسٹریٹجک شراکت دار ہے، نے بھی خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کی۔ چین کی پالیسی ہمیشہ مذاکرات اور اقتصادی استحکام کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیتی ہے، جس نے اس صورتحال میں مثبت اثر ڈالا۔

دوسری جانب روس نے بھی عالمی طاقت کے طور پر کشیدگی کم کرنے میں اپنا سفارتی اثر و رسوخ استعمال کیا۔ روس کی جانب سے مذاکرات کی حمایت اور طاقت کے استعمال سے گریز کی اپیل نے عالمی سطح پر ایک متوازن فضا قائم کرنے میں مدد دی۔

پاکستان نے ان تمام عالمی طاقتوں کے درمیان ایک “پل” کا کردار ادا کیا۔ اس نے نہ صرف اسلامی دنیا اور مغربی دنیا کے درمیان توازن قائم رکھا بلکہ مشرقی طاقتوں کے ساتھ بھی ہم آہنگی برقرار رکھی۔ یہی پاکستان کی خارجہ پالیسی کی اصل کامیابی ہے کہ وہ مختلف بلاکس کے درمیان توازن قائم رکھتے ہوئے امن کا داعی بن کر سامنے آیا۔

یہ سفارتی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب صرف ایک علاقائی ملک نہیں بلکہ ایک ایسا ذمہ دار عالمی کردار بن چکا ہے جو پیچیدہ عالمی تنازعات میں مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی سیاسی بصیرت اور عاصم منیر کی عسکری حکمت عملی نے مل کر پاکستان کو ایک مضبوط اور باوقار مقام دلایا۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ایران۔امریکہ جنگ بندی میں پاکستان، سعودی عرب، چین اور روس کی مشترکہ کاوشوں نے دنیا کو ایک بڑے بحران سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ لمحہ نہ صرف سفارتی کامیابی بلکہ قومی فخر کی علامت ہے۔

پاکستان زندہ باد!

About Post Author

نثار چوہدری

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
شہباز شریف Previous post توانائی کے شعبے میں بہتری، قابلِ تجدید ذرائع سے بجلی کی فراہمی مستحکم—وزیراعظم شہباز شریف
پاکستان Next post پاکستان کی سفارتی کاوشیں رنگ لے آئیں، برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کا اظہارِ تشکر