
پاکستان کا غزہ امن منصوبے کی حمایت میں بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط
ڈیوس، یورپ ٹوڈے: ڈیوس میں جاری ورلڈ اکنامک فورم کے 56ویں سالانہ اجلاس کے موقع پر پاکستان نے غزہ امن منصوبے کے نفاذ کی حمایت کے تحت بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کر دیے۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے جمعرات کو عالمی رہنماؤں کے ہمراہ اس دستاویز پر دستخط کیے۔
دستخط کرنے والے ممالک میں قطر، آرمینیا، آذربائیجان، ازبکستان، ارجنٹائن، کوسوو، پیراگوئے، قازقستان، سعودی عرب، ترکیہ، بلغاریہ اور دیگر شامل ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کرنے والے پہلے رہنما تھے، جنہوں نے بعد ازاں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر منعقدہ تقریب کا مشاہدہ بھی کیا۔
پاکستان کو بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی تھی، جسے بعد میں قبول کر لیا گیا۔ پاکستان ان آٹھ مسلم ممالک میں شامل ہے جنہوں نے بدھ کے روز اس فورم کا حصہ بننے کا اعلان کیا تھا۔ ان ممالک میں عرب جمہوریہ مصر، ہاشمی مملکتِ اردن، متحدہ عرب امارات، جمہوریہ انڈونیشیا، جمہوریہ ترکیہ، مملکتِ سعودی عرب اور ریاستِ قطر شامل ہیں۔
اعلان کے مطابق ہر ملک اپنے متعلقہ قانونی اور دیگر ضروری طریقۂ کار کے مطابق شمولیتی دستاویزات پر دستخط کرے گا۔ مصر، پاکستان اور متحدہ عرب امارات ان ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے شمولیت کا باضابطہ اعلان پہلے ہی کر دیا ہے۔
پاکستان نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس فریم ورک کے قیام کے نتیجے میں مستقل جنگ بندی کے نفاذ، فلسطینیوں کے لیے انسانی امداد میں نمایاں اضافے اور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ وزارتِ خارجہ نے اپنے ایک سابقہ بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کو توقع ہے کہ یہ کوششیں فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کے حصول کی راہ ہموار کریں گی، جو ایک قابلِ اعتماد اور وقت سے مشروط سیاسی عمل کے ذریعے، بین الاقوامی قانونی حیثیت اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق، 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد، خودمختار اور متصل ریاستِ فلسطین کے قیام پر منتج ہوں گی، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہوگا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ “ہر کوئی” ان کے بورڈ آف پیس کا حصہ بننا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ سمیت دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق، بورڈ کی تکمیل کے بعد اس کے ذریعے اقوام متحدہ کے اشتراک سے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں گے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ان کا مکمل استعمال نہیں ہوا، تاہم بورڈ آف پیس اور عالمی رہنماؤں کے اشتراک سے یہ فورم دنیا کے لیے ایک منفرد مثال بن سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کی انتظامیہ نے دس ماہ کے عرصے میں آٹھ جنگیں رکوانے میں مدد کی ہے، جن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان دو ایٹمی طاقتوں کے مابین ممکنہ جنگ کی روک تھام بھی شامل ہے۔