
سلامتی کونسل میں مستقل نشستوں میں توسیع کی مخالفت، پاکستان کا منتخب نمائندگی پر زور
اقوامِ متحدہ،یورپ ٹوڈے: پاکستان نے جمعہ کے روز ایک بار پھر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں نئے مستقل اراکین کے اضافے کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس اقدام سے 15 رکنی کونسل کی غیر فعالیت میں اضافہ ہوگا اور خودمختار مساوات کے اصول کی خلاف ورزی ہوگی۔
سلامتی کونسل میں اصلاحات سے متعلق جاری بین الحکومتی مذاکرات (IGN) کے دوبارہ شروع ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ انفرادی ممالک کو مستقل رکنیت دینے کا مطالبہ اصلاحات کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، ’’یونائٹنگ فار کنسینسس‘‘ (UfC) گروپ کے رکن کی حیثیت سے، صرف غیر مستقل اور منتخب نشستوں میں توسیع کا حامی ہے تاکہ جمہوری نمائندگی کو فروغ دیا جا سکے اور “سب کے لیے اصلاحات، کسی کے لیے خصوصی مراعات نہیں” کے اصول کو یقینی بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ سلامتی کونسل کی اصلاحات کے لیے باضابطہ مذاکرات فروری 2009 میں جنرل اسمبلی میں پانچ اہم نکات پر شروع ہوئے تھے، جن میں رکنیت کی اقسام، ویٹو کا اختیار، علاقائی نمائندگی، توسیع شدہ کونسل کا حجم اور جنرل اسمبلی کے ساتھ تعلقات و طریقۂ کار شامل ہیں۔
تاحال اصلاحاتی عمل تعطل کا شکار ہے کیونکہ جی-4 ممالک — بھارت، برازیل، جرمنی اور جاپان — مستقل نشستوں کے حصول پر زور دے رہے ہیں، جبکہ اٹلی اور پاکستان کی قیادت میں قائم UfC گروپ کسی بھی نئے مستقل رکن کے اضافے کی مخالفت کرتا ہے اور اسے ’’نئے مراعاتی مراکز‘‘ کے قیام کے مترادف قرار دیتا ہے۔
بطور متبادل، UfC گروپ نے ایک نئی قسم کی رکنیت کی تجویز دی ہے جو مستقل نہ ہو لیکن اس کی مدت زیادہ ہو اور دوبارہ انتخاب کا امکان بھی موجود ہو۔
اس وقت سلامتی کونسل پانچ مستقل اراکین — برطانیہ، چین، فرانس، روس اور امریکہ — اور دو سالہ مدت کے لیے منتخب ہونے والے 10 غیر مستقل اراکین پر مشتمل ہے۔
اپنے خطاب میں سفیر عاصم افتخار احمد نے زور دیا کہ انفرادی مستقل رکنیت کی مہم اصلاحات کی بنیاد نہیں بن سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کی اکثریت اس امر کو تسلیم کرتی ہے کہ مستقل رکنیت اور ویٹو کا اختیار کونسل کی مفلوجی اور عدم فعالیت کی بنیادی وجوہات ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’یہ کوئی ضمنی مسئلہ نہیں بلکہ مرکزی خامی ہے جو کونسل کی ساکھ اور مؤثریت کو متاثر کرتی ہے۔ ایسے وقت میں جب کثیرالجہتی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے اور ایک مؤثر اقوامِ متحدہ کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے، خصوصی مراعات کے مطالبات کی ان مباحث میں کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔‘‘
پاکستان کے مستقل مؤقف کو دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے مستقل اراکین کا اضافہ موجودہ مستقل اراکین کے غیر متناسب اثر و رسوخ کو کم نہیں کرے گا بلکہ اسے مزید مستحکم اور وسیع کر دے گا۔
انہوں نے کہا، ’’دو غلطیاں مل کر ایک درست فیصلہ نہیں بن سکتیں، اور ایک بڑی اشرافیہ کسی محدود طاقت کے کلب کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ مستقل رکنیت کا دائرہ اگر وسیع بھی کر دیا جائے تو وہ بند دائرہ ہی رہے گا۔‘‘
سفیر نے مزید کہا کہ پانچ مستقل اراکین (P-5) میں سے بعض اس کلب کو وسعت دینے کے حامی ہیں تاکہ آج کی بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں اپنے فرسودہ مقام کو برقرار رکھ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ پانچ مستقل اراکین کے غیر مساوی اختیار کا توازن قائم کرنے کا بہترین طریقہ زیادہ جمہوری اور جوابدہ نظام اپنانا ہے، جس میں منتخب، غیر مستقل اراکین کی بامعنی تعداد میں اضافہ شامل ہو۔ اس سے توسیع شدہ کونسل کے اندرونی توازن کو وسیع رکنیت کے حق میں منتقل کیا جا سکے گا اور قراردادوں کی منظوری کے لیے درکار اکثریت بنیادی طور پر منتخب اراکین کے پاس ہوگی، جس سے شفافیت، شمولیت اور احتساب کو فروغ ملے گا اور خودمختار مساوات کا اصول برقرار رہے گا۔
افریقی ممالک کے مطالبے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان افریقہ کی جانب سے پورے خطے کے لیے مستقل نشستوں کے مطالبے کو سمجھتا اور اس کا احترام کرتا ہے، جو انفرادی ریاستوں کی تقسیم پر مبنی تجاویز سے مختلف ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی تصور میں حقیقی گردش (روٹیشن) اور منصفانہ علاقائی نمائندگی کو یقینی بنایا جانا چاہیے، نیز کم نمائندگی رکھنے والے خطوں، ذیلی علاقائی اور بین العلاقائی گروپس بشمول چھوٹے جزیرہ نما ترقی پذیر ممالک (SIDS) اور اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے مفادات کو بھی مدنظر رکھا جائے، جیسا کہ اقوامِ متحدہ کے ’’پیکٹ فار دی فیوچر‘‘ میں طے پایا ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا، ’’لچک اس وقت کلیدی لفظ ہے، لیکن کچھ ممالک مذاکرات کی بات تو کرتے ہیں مگر خود کسی قسم کی لچک دکھانے کو تیار نہیں۔ جب تک لچک نہیں ہوگی، کسی متفقہ ماڈل پر اتفاق ممکن نہیں۔‘‘