غزہ

غزہ میں قیامِ امن کی کوششوں میں کردار ادا کریں گے، حماس کو غیر مسلح کرنے کی کسی مہم کا حصہ نہیں بنیں گے: دفترِ خارجہ

اسلام آباد،یورپ ٹوڈے: دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے جمعرات کو ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ پاکستان غزہ میں قیامِ امن کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرے گا، تاہم حماس کو غیر مسلح کرنے کی کسی بھی مہم کا حصہ نہیں بنے گا۔

ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان صرف ان اقدامات میں شرکت کرے گا جن کا مقصد غزہ میں پائیدار امن کا قیام ہو اور وہ کسی بھی گروہ یا تنظیم کے خلاف کسی فیصلے کا حصہ نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ پاکستان امن عمل میں شامل ہوگا لیکن حماس کو غیر مسلح کرنے کی کسی تجویز کا حصہ نہیں بنے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ غزہ بورڈ آف پیس خطے کے عوام کو درپیش مشکلات میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے بھارتی شہری نکھل گپتا کی گرفتاری سے متعلق رپورٹس کا نوٹس لینے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پاس بھارت کی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گرد گروہوں کے ملک کے اندر سرگرم ہونے کے شواہد موجود ہیں۔

افغانستان سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورس سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور اس حوالے سے گردش کرنے والی قیاس آرائیوں کو مسترد کیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بنگلہ دیش میں نئی حکومت کی حلف برداری کی تقریب میں پاکستان کی نمائندگی کی۔

ترجمان کے مطابق پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک نے مغربی کنارے کے الحاق سے متعلق اسرائیل کے متنازع قانون کی شدید مذمت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر امریکہ کے دورے پر نیویارک میں موجود ہیں اور وہ آج غزہ بورڈ آف پیس کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ وزیراعظم کی اعلیٰ امریکی حکام سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ اسحاق ڈار بھی نیویارک میں موجود ہیں جہاں انہوں نے فلسطینی مستقل مندوب اور مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سے ملاقاتیں کیں۔ آسٹریا کے دورے سے قبل نائب وزیراعظم نے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور بدر عبدالعاطی سے علیحدہ علیحدہ ٹیلیفونک گفتگو کر کے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

ترجمان نے مزید آگاہ کیا کہ وزیراعظم نے قبل ازیں آسٹریا کے وفاقی چانسلر کرسچن اسٹوکر کی دعوت پر ویانا کا دورہ کیا، جس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اس دوران وزیراعظم نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل ماریانو گروسی سے بھی ملاقات کی۔

پاکستان Previous post بھارتی پروازوں پر پابندی برقرار، پاکستان نے فضائی حدود کی بندش میں 23 مارچ تک توسیع کر دی
پاکستان Next post اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف، فلسطینی حقِ خودارادیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ