
2025 دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فیصلہ کن سال، پاکستان طاقت سے کامیاب ہوگا: ڈی جی آئی ایس پی آر
راولپنڈی، یورپ ٹوڈے: ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے منگل کے روز 2025 کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک تاریخی اور نہایت اہم سال قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان اس جنگ میں مفاہمت نہیں بلکہ قوت اور طاقت کے ذریعے کامیابی حاصل کرے گا۔
راولپنڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی مشترکہ جدوجہد ہے اور پاکستان اس ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بریفنگ کا مقصد گزشتہ ایک سال کے دوران کیے گئے انسدادِ دہشت گردی اقدامات کا جامع جائزہ پیش کرنا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ گزشتہ سال کے دوران انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں غیر معمولی شدت دیکھی گئی۔ ان کے مطابق 2025 میں ریاست اور عوام دونوں کو دہشت گردی کے خطرے سے متعلق مکمل اور واضح ادراک حاصل ہو چکا ہے۔
تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2025 کے دوران مجموعی طور پر 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔ ان میں سے 14 ہزار 658 آپریشنز خیبر پختونخوا، 58 ہزار 778 بلوچستان جبکہ ایک ہزار 739 ملک کے دیگر حصوں میں انجام دیے گئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سال 2025 کے دوران 2 ہزار 597 دہشت گرد مارے گئے، جن میں سے ایک ہزار 800 خیبر پختونخوا، 784 بلوچستان جبکہ 10 دیگر علاقوں میں ہلاک ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 2025 کے دوران ایک ہزار 235 سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔
خودکش حملوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 2025 میں مجموعی طور پر 27 خودکش حملے ہوئے، جن میں سے 16 خیبر پختونخوا، 10 بلوچستان اور ایک اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس میں پیش آیا۔
انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے 3 ہزار 811 واقعات رپورٹ ہوئے، جس سے یہ سنگین سوال پیدا ہوتا ہے کہ ملک میں 80 فیصد دہشت گردی کے واقعات اسی صوبے میں کیوں ہو رہے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ عالمی برادری نے بھی دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف اور بیانیے کو تسلیم اور سراہا ہے، خصوصاً افغانستان کے تناظر میں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور افغانستان خطے میں دہشت گردی کا مرکز بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر اور نام نہاد “فتنۂ ہندستان” کا بلوچستان یا بلوچ عوام سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے مطابق 2025 کے دوران 10 بڑے دہشت گرد حملے ہوئے، جن میں بنوں کینٹ، جعفر ایکسپریس، نوشکی میں مسافر بس اور خضدار میں اسکول بس پر حملے شامل ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وفاقی کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز، ایف سی ہیڈکوارٹرز کوئٹہ، پولیس ٹریننگ اسکول ڈیرہ اسماعیل خان، کیڈٹ کالج وانا اور اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پشاور میں وفاقی کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز پر دوبارہ حملہ ہوا اور تمام 10 بڑے دہشت گرد حملوں میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے شواہد ملے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق تمام حملہ آور افغان تھے اور انہیں ہلاک کر دیا گیا، جبکہ سرحد بند کرنے کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے اور دنیا نے پاکستان کی کوششوں کو تسلیم اور سراہا ہے۔
افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ یہ ملک دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے جہاں دنیا بھر کی مختلف دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ القاعدہ، داعش، بی ایل اے اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جیسے گروہوں کی پناہ گاہیں افغانستان میں موجود ہیں، جو نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ہمسایہ ممالک کے لیے بھی خطرہ ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ حالیہ انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق تقریباً 2 ہزار 500 دہشت گرد شام سے افغانستان پہنچے ہیں، جن میں کوئی بھی پاکستانی نہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو علاقائی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک بھی اس دہشت گردی سے متاثر ہو رہے ہیں اور عالمی برادری کو اس کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ امریکہ کے افغانستان سے انخلا کے دوران چھوڑا گیا جدید اسلحہ نہ صرف پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال ہو رہا ہے بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے بھی شدید خطرہ ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت خطے میں دہشت گرد گروہوں کو بطور پراکسی استعمال کر رہا ہے اور انہیں اسلحہ اور مالی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی اداروں کے پاس اس حوالے سے شواہد موجود ہیں اور یہ صورتحال علاقائی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔