
اقوام متحدہ میں پاکستان کا روس۔یوکرین جنگ پر مؤقف: فوری جنگ بندی اور بامعنی مذاکرات پر زور
نیویارک،یورپ ٹوڈے: روس اور یوکرین کے درمیان جاری خونریز جنگ کے چوتھے سال کے موقع پر پاکستان نے منگل کے روز زور دیا ہے کہ جاری سفارتی کوششوں سے مکمل طور پر فائدہ اٹھایا جائے اور تعمیری انداز میں مذاکرات کے ذریعے اس تنازع کے پُرامن اور باوقار حل کی جانب بامعنی پیش رفت کی جائے، جس کا آغاز فوری جنگ بندی سے ہونا چاہیے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان نے اس تنازع کے ابتدائی دنوں سے ہی مکالمے اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مؤقف اس پختہ یقین پر مبنی ہے کہ اس تنازع کا کوئی فوجی حل موجود نہیں، بلکہ منصفانہ اور دیرپا امن صرف مسلسل، منظم اور بامعنی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
سلامتی کونسل کے 15 رکنی اجلاس میں دیگر مقررین نے بھی اس امر پر زور دیا کہ جاری سفارتی کوششوں کا پہلا ثمر فوری جنگ بندی کی صورت میں سامنے آنا چاہیے، جس کے بعد پائیدار امن کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے تاکہ طویل تنازع کے باعث پیدا ہونے والی وسیع انسانی تکالیف کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
یہ اجلاس جنرل اسمبلی کے ہنگامی خصوصی اجلاس کے بعد منعقد ہوا، جبکہ حالیہ مہینوں میں یوکرین کے شہری انفراسٹرکچر پر روسی حملوں میں شدت دیکھی گئی، خاص طور پر شدید سرد موسم کے دوران۔ اگرچہ سفارتی کوششیں جنگ کے خاتمے کے لیے جاری ہیں، تاہم 2025ء عام شہریوں کے لیے ایک نہایت مہلک سال ثابت ہوا، باوجود اس کے کہ سلامتی کونسل نے جنگ کی تیسری برسی پر قرارداد 2774 (2025) منظور کی تھی۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ تنازع کے کسی بھی مذاکراتی حل کے لیے اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کی پاسداری ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسا باہمی طور پر قابل قبول حل تلاش کیا جانا چاہیے جو تمام فریقین کے سلامتی مفادات کا تحفظ کرے اور خطے سمیت عالمی سطح پر پائیدار استحکام کی ضمانت دے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ الزام تراشی سے گریز کرنا ہوگا۔
انہوں نے جنگ کے انسانی المیے کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ عام شہریوں اور اہم تنصیبات پر اس تنازع کے غیر متناسب اثرات بین الاقوامی انسانی قانون کی بنیادوں کو جھنجھوڑ رہے ہیں۔ ان کے بقول ایسے اقدامات نہ صرف تنازع کو طول دیتے ہیں بلکہ باہمی اعتماد کو بھی مجروح کرتے ہیں، بامعنی مکالمے کی گنجائش کم کرتے ہیں اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
پاکستانی مندوب نے زور دیا کہ لاکھوں افراد کی اذیت کا خاتمہ محض ایک سیاسی ہدف نہیں بلکہ ایک گہری اخلاقی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اختلافات کم کرنے اور پُرامن حل کو فروغ دینے والی ہر کوشش کی حمایت جاری رکھے گا۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ یہ ثابت کیا جائے کہ سفارت کاری اور مکالمہ کمزوری نہیں بلکہ اجتماعی امن کی جستجو میں ایک مؤثر اور طاقتور ذریعہ ہیں۔
ادھر 193 رکنی جنرل اسمبلی میں اسی موضوع پر خطاب کرتے ہوئے پاکستان مشن کے قونصلر محمد کامران تاج نے کہا کہ اس مہلک جنگ کے اثرات یوکرین سے کہیں آگے تک پھیل چکے ہیں، جس کے باعث عالمی معیشت، سپلائی چین، خوراک اور توانائی کے تحفظ کو شدید دھچکا پہنچا ہے، خصوصاً ترقی پذیر ممالک زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران جاری دشمنی اور بامعنی مکالمے کے فقدان نے متاثرہ آبادیوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے اس امر کا خیرمقدم کیا کہ حالیہ دنوں میں اس تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں نئی دلچسپی اور کوششیں سامنے آئی ہیں، اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں امریکی قیادت کے کردار کو سراہا۔
محمد کامران تاج نے حالیہ مذاکرات کے بعد دونوں فریقین کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دونوں جانب سے ان سفارتی کوششوں میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے، انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے، فوری جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے لیے اقدامات کیے جائیں، اور اقوام متحدہ کے منشور اور اس کے اصولوں کے مطابق ایسا باہمی طور پر قابل قبول حل تلاش کیا جائے جو تمام فریقین کے جائز سلامتی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے خطے میں جامع اور دیرپا امن کو یقینی بنائے۔