
صدر پرابوو سوبیانتو کا اعلان: مکہ میں انڈونیشیائی حج ولیج سے سستا اور معیاری حج ممکن ہوگا
جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں انڈونیشیا کے لیے حج ولیج کی تعمیر کا مقصد انڈونیشیائی مسلمانوں کو سستی اور باوقار حج سہولیات فراہم کرنا ہے۔
اتوار کے روز مشرقی جاوا کے شہر مالانگ میں نہدۃ العلماء کے 100ویں یومِ تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر پرابوو نے یقین دہانی کرائی کہ ہر حاجی کو معیاری رہائش فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا، “ہر حاجی کو مناسب رہائش ملے گی، فکر نہ کریں۔ میں وہاں بہترین خدمات فراہم کرنے کا وعدہ کرتا ہوں اور انڈونیشیائی عوام کے لیے حج کی لاگت کم کرنے کے لیے پُرعزم ہوں۔”
صدر نے علما اور نہدۃ العلماء کے حامیوں سے خطاب میں کہا کہ انڈونیشیا کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس کے پاس مکہ میں اپنی زمین موجود ہے، جو مسلمانوں کے نزدیک سب سے مقدس شہر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی زمین پر حج اور عمرہ زائرین کے لیے حج ولیج تیار کیا جائے گا، جس سے معیاری اور سستی سہولیات کی فراہمی ممکن ہوگی۔ حکومت حج ولیج میں قیام کرنے والے زائرین کے لیے اعلیٰ معیار کی خدمات یقینی بنانے پر بھی کام کرے گی۔
صدر پرابوو کے مطابق آئندہ تین برس میں ایک مکمل اور معیاری حج ولیج تیار ہو جائے گا، جبکہ آنے والے مہینوں میں ایک ہزار کمروں کی فراہمی متوقع ہے اور مزید تعمیرات بھی کی جائیں گی۔
اس سے قبل جنوری میں وزیرِ مملکت برائے سیکریٹریٹ پراسیتیو ہادی نے بتایا تھا کہ انڈونیشیا نے مکہ میں ایک ہوٹل اور زمین حاصل کرنے کی کامیاب بولی جیتی ہے، جو سعودی پالیسی میں تبدیلیوں کے باعث ممکن ہوئی۔ انہوں نے اس کامیابی کو صدر پرابوو کی “غیر معمولی سفارت کاری” کا نتیجہ قرار دیا، جس سے مکہ میں غیر ملکی اثاثوں کی ملکیت تک رسائی ممکن ہوئی۔
دریں اثنا، دانانتارا انڈونیشیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر روسان روسلانی نے بھی تصدیق کی کہ دانانتارا انڈونیشیا کے زیرِ انتظام مکہ میں نووٹیل تھاخر مکہ ہوٹل اور تقریباً پانچ ہیکٹر اراضی کامیابی سے خریدی گئی ہے، جس پر انڈونیشیائی حج ولیج قائم کیا جائے گا۔
نووٹیل تھاخر مکہ ہوٹل تین ٹاورز پر مشتمل ہے، جس میں 1,461 کمرے ہیں اور یہ سالانہ حج سیزن کے دوران 4,383 انڈونیشیائی حجاج کو رہائش فراہم کر سکتا ہے۔ حکومت 13 مزید ٹاورز شامل کرنے کا بھی منصوبہ رکھتی ہے، جس سے مجموعی گنجائش 6,025 کمروں تک بڑھ جائے گی، جبکہ مربوط سہولیات کے ذریعے آرام، کارکردگی اور خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔