پرابوو

صدر پرابوو سبیانتو کا آئندہ ہفتے برطانیہ کا سرکاری دورہ، تعلیمی تعاون پر بات چیت متوقع

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو آئندہ ہفتے برطانیہ (یو کے) کا سرکاری دورہ کرنے والے ہیں، جہاں وہ تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیں گے۔

صدر نے اپنے مجوزہ بیرونِ ملک دورے کا اعلان جمعرات کو جکارتہ کے صدارتی محل میں منعقدہ ایک اجلاس کے دوران کیا، جس میں ملک بھر کی سرکاری اور نجی جامعات کے وائس چانسلرز، ڈینز اور پروفیسرز نے شرکت کی۔

اعلیٰ تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کی نائب وزیر اسٹیلا کرسٹی نے صدارتی محل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صدر پرابوو آئندہ ہفتے برطانیہ کا دورہ کریں گے۔ ان کے مطابق وہ خود بھی اس دورے کی تیاریوں میں براہِ راست شامل ہیں، خاص طور پر تعلیمی تعاون اور تعلیم سے متعلق دیگر امور کے حوالے سے۔

اسٹیلا کرسٹی نے بتایا کہ صدر پرابوو کے برطانیہ کے دورے کے ایجنڈے میں رسل گروپ یونیورسٹیز کے ساتھ ملاقاتیں شامل ہیں۔ رسل گروپ برطانیہ کی 24 ممتاز جامعات پر مشتمل ایک تنظیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر پرابوو صرف اعلیٰ ترین جامعات سے ملاقات کے خواہاں ہیں اور کسی عام یا غیر نمایاں غیر ملکی ادارے کو شامل نہیں کیا جائے گا۔

تاہم، نائب وزیر نے صدر کے دورے کی حتمی تاریخوں کی تصدیق نہیں کی۔ صحافتی ذرائع کے مطابق صدر پرابوو 18 سے 25 جنوری 2026 کے دوران برطانیہ اور ممکنہ طور پر دیگر ممالک کا بھی دورہ کر سکتے ہیں۔

جمعرات کو صدارتی محل میں ہونے والے اجلاس کے دوران صدر پرابوو نے تقریباً تین گھنٹے تک 1,200 پروفیسرز، بالخصوص سماجی علوم اور انسانیاتی شعبوں سے تعلق رکھنے والے اساتذہ، نیز ڈینز، وائس چانسلرز اور جامعات کے سربراہان سے تبادلۂ خیال کیا۔

اجلاس کے دوران صدر نے ایک بریفنگ دی، جس میں 2026 کے لیے تحقیقاتی فنڈنگ کی حد میں اضافے کا اعلان بھی شامل تھا۔ انہوں نے بتایا کہ تحقیق کے لیے مختص بجٹ کی حد میں Rp4 ٹریلین (تقریباً 230 ملین امریکی ڈالر) کا اضافہ کیا گیا ہے، جو ابتدائی Rp8 ٹریلین (460.5 ملین امریکی ڈالر) کا تقریباً 50 فیصد بنتا ہے۔

اس اضافے کے بعد 2026 کے لیے تحقیقاتی فنڈنگ کی مجموعی حد Rp12 ٹریلین (تقریباً 690 ملین امریکی ڈالر) ہو گئی ہے۔ صدر نے توقع ظاہر کی کہ جامعات اس اضافی فنڈنگ کو غذائی خود کفالت، توانائی میں خود انحصاری، صنعتی ترقی اور ڈاؤن اسٹریمینگ پروگراموں کی معاونت کے لیے ترجیحی بنیادوں پر استعمال کریں گی۔

پاکستان Previous post پاکستان نے بھارت کی الزام تراشی مسترد کر دی، دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ قرار دیا
شہباز شریف Next post وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ASAN خدمت سینٹر کا افتتاح کر دیا، آذربائیجان کے تعاون کو سراہا