زرداری

صدر زرداری کا پیغام: پاکستان کی ترقی اور ماحول کے تحفظ کے لیے صاف توانائی کی منتقلی لازمی قرار

اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ نیشنل ڈٹرمنڈ کنٹری بیوشن (این ڈی سی) اور قومی موسمیاتی تبدیلی پالیسی کے ذریعے پاکستان نے کم کاربن ترقی کے راستے اختیار کرنے کا عزم کیا ہے، تاکہ معاشی ترقی اور سماجی بہبود کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

بین الاقوامی یومِ صاف توانائی (26 جنوری) کے موقع پر اپنے پیغام میں صدرِ مملکت نے کہا کہ یہ دن اس امر کی یاد دہانی ہے کہ صاف، سستی اور پائیدار توانائی جامع ترقی، توانائی کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے عالمی ردِعمل میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ اسی لیے حکومتِ پاکستان نے صاف توانائی کی جانب منتقلی کو اپنی موسمیاتی اور ترقیاتی حکمتِ عملی کا بنیادی ستون بنایا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی (یو این ایف سی سی سی) کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے مطابق، جیسا کہ نیشنل ڈٹرمنڈ کنٹری بیوشنز 2025 میں درج ہے، پاکستان نے 2030 تک 30 فیصد برقی گاڑیوں کے استعمال کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ بات ایوانِ صدر کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں صدرِ مملکت کے حوالے سے بتائی گئی۔

صدرِ مملکت نے کہا کہ فضائی آلودگی عوام کے لیے ایک سخت اور بار بار پیش آنے والی حقیقت بن چکی ہے۔ ہر سال شدید اسموگ اور دھند کے باعث ٹریفک کے سنگین حادثات، پروازوں کی منسوخی، ریل سروس میں خلل اور موٹرویز کی بندش جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسکول بند ہو جاتے ہیں، کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور اسپتالوں میں سانس لینے میں دشواری کا شکار مریضوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ اگرچہ خوشحال گھرانوں میں ایئر پیوریفائر عام ہو چکے ہیں، تاہم لاکھوں شہری اب بھی خطرناک فضائی حالات کا سامنا کر رہے ہیں، جو آلودہ ہوا کی سنگین سماجی اور معاشی قیمت کو ظاہر کرتا ہے۔

صدر زرداری نے مزید کہا کہ پاکستان کے توانائی کے مجموعی نظام میں پہلے ہی 35 فیصد صاف اور قابلِ تجدید توانائی شامل ہے۔ پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی 7 اور ایس ڈی جی 13) کے حصول کے لیے توانائی کی بچت، مؤثر استعمال اور پائیدار وسائل کے انتظام کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ منتقلی پالیسی اصلاحات، توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری، قابلِ تجدید توانائی کی ٹیکنالوجیز کے فروغ اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے ذریعے ممکن بنائی جا رہی ہے۔ صاف توانائی کی طرف پیش رفت نہ صرف ماحولیاتی ضرورت ہے بلکہ معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور تکنیکی پیش رفت کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔

صدرِ مملکت نے کہا کہ جدت کی حوصلہ افزائی، سرمایہ کاری کے فروغ اور ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنا کر پاکستان ایک ایسا توانائی نظام تشکیل دینا چاہتا ہے جو تمام شہریوں کے لیے قابلِ اعتماد، سستا، مضبوط اور پائیدار ہو۔

اپنے پیغام کے اختتام پر صدر آصف علی زرداری نے کہا، “آئیے ہم اس عزم کی تجدید کریں کہ ہم نہ صرف ایک موسمیاتی طور پر مضبوط، کم کاربن اور توانائی کے لحاظ سے محفوظ پاکستان کی تعمیر کریں گے بلکہ عالمی برادری کے ایک ذمہ دار رکن کے طور پر ایسی ٹیکنالوجیز کی ترقی اور اپنانے میں بھی کردار ادا کریں گے جو ہمارے سیارے کو محفوظ اور بہتر بنائیں، اور ان سے دوری اختیار کریں گے جو اس کے وجود کے لیے خطرہ ہیں۔”

فرانس Previous post فرانس 2027 تک Teams اور Zoom کی جگہ ملکی ویڈیو کانفرنسنگ پلیٹ فارم "Visio” متعارف کرائے گا
اہمیت Next post الفاظ سے زیادہ بدن بولی اور موجودگی کی اہمیت