شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف کا 23 تا 24 فروری قطر کا سرکاری دورہ، دوطرفہ تعاون کے فروغ پر بات چیت ہوگی

اسلام آباد،یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف 23 سے 24 فروری تک امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کی دعوت پر قطر کا سرکاری دورہ کریں گے۔ یہ بات دفترِ خارجہ نے اتوار کے روز جاری بیان میں بتائی۔

وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت وفاقی وزراء اور اعلیٰ حکام بھی وفد میں شامل ہوں گے۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق یہ دورہ دونوں برادر ممالک کے درمیان گہرے اور تاریخی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور کثیرالجہتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار ہے۔ دوحہ میں قیام کے دوران وزیراعظم امیرِ قطر سے دوطرفہ ملاقات کریں گے، جس میں سیاسی روابط، اقتصادی تعاون، توانائی شراکت داری اور عوامی سطح پر روابط سمیت باہمی تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔

دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور افرادی قوت کی برآمد جیسے شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع بھی تلاش کیے جائیں گے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور قطر کے درمیان دیرینہ شراکت داری باہمی اعتماد اور علاقائی و عالمی فورمز پر قریبی ہم آہنگی پر مبنی ہے۔ اس دورے کے دوران دونوں رہنما باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے اور خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں کے عزم کا اعادہ کریں گے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا اس سے قبل دوحہ کا دورہ ہنگامی عرب۔اسلامی سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے تھا، جو قطر پر اسرائیلی فضائی حملوں اور غزہ میں بگڑتی انسانی صورتحال کے تناظر میں منعقد کیا گیا تھا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے عرب اور مسلم ممالک کے اتحاد پر زور دیا، اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی، مشترکہ عرب۔اسلامی ٹاسک فورس کے قیام کی تجویز پیش کی اور غزہ میں فوری جنگ بندی کے ساتھ دو ریاستی حل کی جانب پیش رفت کا مطالبہ کیا تھا۔

اس دورے کے دوران وزیراعظم نے سربراہی اجلاس کے موقع پر اعلیٰ سطحی سفارتی ملاقاتیں بھی کیں تاکہ علاقائی ردعمل کو مربوط بنایا جا سکے اور قطر کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے۔

شہباز شریف Previous post پشین میں چار دہشت گرد ہلاک، وزیراعظم شہباز شریف کا سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
دہشت گردوں Next post دہشت گردوں کا ایف سی کے زخمی اہلکاروں کو اسپتال منتقل کرنے والی ایمبولینسوں پر حملہ