شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف کی ایف بی آر کو زیادہ سے زیادہ شعبوں کو خودکار مانیٹرنگ نظام کے تحت لانے کی ہدایت

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے منگل کے روز فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ہدایت دی ہے کہ ٹیکس وصولیوں میں اضافہ اور ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے زیادہ سے زیادہ پیداواری شعبوں کو خودکار مانیٹرنگ نظام کے تحت لایا جائے۔

وزیراعظم آفس میں ایف بی آر کے امور سے متعلق ہفتہ وار جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے محصولات میں اضافے اور ٹیکس نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے نفاذ کے طریقہ کار کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیراعظم نے پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (PRAL) کی ایگزیکٹو ٹیم میں میرٹ پر ماہرین کی شمولیت اور ادارے کو مزید مؤثر اور فعال بنانے کی کوششوں پر اقتصادی ٹیم کی تعریف بھی کی۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو ہدایت دی کہ ملک میں تیار ہونے والی ادویات کی سیریلائزیشن کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے۔

انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ٹیکس دہندگان کے لیے ڈیجیٹل سہولیات، جن میں آٹو ٹیکس سسٹم، ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم، آئی آر آئی ایس اور دیگر ایپلیکیشنز شامل ہیں، کو اردو اور دیگر مقامی زبانوں میں بھی دستیاب بنایا جائے تاکہ عوام کی رسائی اور ٹیکس قوانین کی پاسداری میں بہتری لائی جا سکے۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ مختلف شعبوں میں پیداوار کی نگرانی کے لیے متعدد ٹیکنالوجی پر مبنی نظام پہلے ہی نافذ کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید نظام جلد فعال کیے جائیں گے تاکہ ٹیکس محصولات میں مزید اضافہ ممکن ہو سکے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ جدید مانیٹرنگ آلات جیسے ویڈیو اینالیٹکس، یونٹ کاؤنٹنگ، بارکوڈ اسکیننگ، اسٹیمپنگ اور سیریلائزیشن کے ذریعے پیداوار کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ چینی، سیمنٹ، سگریٹ اور کھاد بنانے والی فیکٹریوں میں مانیٹرنگ سسٹم پہلے ہی نافذ ہیں جس سے ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

حکام کے مطابق اسی نوعیت کے مانیٹرنگ نظام ٹیکسٹائل، لیدر، کاغذ، آٹوموبائل اور مشروبات کے شعبوں میں بھی متعارف کرائے جا رہے ہیں جن سے اربوں روپے اضافی ٹیکس وصول ہونے کی توقع ہے۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ متبادل تنازعاتی حل کمیٹیوں سے متعلق قانون میں ترامیم کی گئی ہیں تاکہ شفافیت میں اضافہ اور ٹیکس دہندگان کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔ ان کمیٹیوں کے ذریعے حکومت کو 30 جون 2026 تک تقریباً 80 ارب روپے ٹیکس وصول ہونے کی توقع ہے۔

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ جولائی 2025 سے جنوری 2026 کے دوران ٹیکس مقدمات کے فیصلوں کے نتیجے میں قومی خزانے میں 102.9 ارب روپے جمع ہوئے جبکہ زیر التوا مقدمات سے جون 2026 تک تقریباً 369 ارب روپے کی وصولی متوقع ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ PRAL کی نئی ایگزیکٹو ٹیم نے کام شروع کر دیا ہے اور اس کا ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم مکمل طور پر فعال ہو چکا ہے۔ جنوری اور فروری کے دوران 800 ارب روپے مالیت کی ڈیجیٹل انوائسز جاری کی گئیں جبکہ اپریل 2026 تک 3 کھرب روپے کے ڈیجیٹل انوائسنگ ہدف کے حصول کی توقع ہے۔

اجلاس کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ ایف بی آر کا جدید ڈیٹا سینٹر مکمل ہو چکا ہے جبکہ اسمگلنگ کی روک تھام اور سامان کی نقل و حرکت کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل کارگو ٹریکنگ سسٹم، بشمول ای-بلٹی سسٹم متعارف کرایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پیٹرولیم مصنوعات کی نگرانی کے لیے مربوط جی پی ایس ٹریکنگ سسٹم بھی نافذ کر دیا گیا ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء محمد اورنگزیب، احسن اقبال چیمہ، ڈاکٹر مصدق ملک، عطا اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک، وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، اٹارنی جنرل پاکستان، چیئرمین ایف بی آر اور متعلقہ اداروں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔

پاکستان Previous post پاکستان کی ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو مبارکباد، آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال پر تعزیت کا اظہار