
وزیراعظم شہباز شریف کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات، دوطرفہ تجارت اور انسداد دہشت گردی تعاون بڑھانے پر اتفاق
واشنگٹن،یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تجارت و اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ اور دہشت گردی کے خلاف باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم ہاؤس میڈیا ونگ کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور امریکہ کے اسٹریٹجک تعلقات کی اہمیت پر زور دیا گیا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں دوطرفہ شراکت داری کی مثبت رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔
وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کو بورڈ آف پیس کے کامیاب افتتاحی اجلاس پر مبارکباد دی اور غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد کے لیے پاکستان کے مکمل تعاون کا اعادہ کیا۔
انہوں نے بدلتے ہوئے عالمی حالات میں مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے پاکستان اور امریکہ کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط کے تسلسل کی ضرورت پر زور دیا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے بیان کے مطابق سیکریٹری مارکو روبیو نے غزہ کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کی حمایت اور بورڈ آف پیس کے بانی رکن کے طور پر شرکت پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے 31 جنوری کو بلوچستان میں ہونے والے حملوں اور 6 فروری کو اسلام آباد میں ہونے والے دھماکے پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جاری شراکت داری کی اہمیت کو دہرایا۔
ملاقات میں اہم معدنیات، توانائی کے شعبے کی ترقی اور امریکی کمپنیوں کے لیے تجارتی و سرمایہ کاری مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
مارکو روبیو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں کہا کہ انہوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات میں غزہ امن منصوبے، بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت، اہم معدنیات کی ترقی اور انسدادِ دہشت گردی میں اسٹریٹجک تعاون پر گفتگو کی۔
نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے بھی ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور امن کے فروغ، دہشت گردی کے خلاف تعاون اور دوطرفہ تجارت و اقتصادی روابط کے فروغ سے متعلق بامعنی بات چیت کو سراہتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان مشترکہ مفادات کے تمام شعبوں میں اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرے گا۔