انصاف

وزیراعظم شہباز شریف 18 فروری کو واشنگٹن کا دورہ کریں گے، امریکی بورڈ آف پیس کے پہلے سربراہی اجلاس میں شرکت

Read Time:1 Minute, 50 Second

اسلام آباد،یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف 18 فروری کو واشنگٹن کا دورہ کریں گے جہاں وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ امن بورڈ کے پہلے سربراہی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ اجلاس 19 فروری کو منعقد ہوگا اور اس کی صدارت صدر ٹرمپ کریں گے۔

دفتر خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس اجلاس میں شرکت کے لیے باضابطہ دعوت موصول ہو چکی ہے اور شرکت کا امکان ہے، تاہم سرکاری اعلان ابھی متوقع ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق اجلاس میں غزہ کی صورتحال سرفہرست ہوگی، جس میں امن و استحکام کی بحالی، جنگ بندی کو برقرار رکھنے، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنانے اور بعد از تنازع تعمیرِ نو کے لیے جامع لائحہ عمل کی تیاری پر غور کیا جائے گا۔

پاکستان کی شرکت کو خطے میں پائیدار امن کے فروغ اور غزہ میں جاری انسانی بحران کے جلد اور منصفانہ حل کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد مسلسل فوری جنگ بندی، بلا تعطل انسانی امداد اور بین الاقوامی قانون اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بنیاد پر سیاسی عمل شروع کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

حکام کے مطابق پاکستان فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرے گا، جس میں 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام اور القدس الشریف کو اس کا دارالحکومت تسلیم کرنا شامل ہے۔

پاکستان نے گزشتہ ماہ ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب کے دوران امریکی قیادت میں قائم امن بورڈ میں باضابطہ شمولیت اختیار کی تھی۔ یہ اقدام صدر ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ سال متعارف کرایا گیا تھا، جس کا ابتدائی مقصد اسرائیل۔حماس تنازع کے بعد غزہ کی تعمیرِ نو تھا، تاہم بعد ازاں اس کے دائرہ کار کو دیگر متاثرہ خطوں تک بھی وسعت دے دی گئی۔

ذرائع کے مطابق واشنگٹن میں ہونے والے اجلاس کا ایک اہم مقصد غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے مالی وسائل کو متحرک کرنا ہے۔ اس امن بورڈ میں پاکستان کے علاوہ سعودی عرب، ترکیہ، قطر، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ارجنٹینا اور ہنگری سمیت بیس سے زائد ممالک شامل ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
پاکستان Previous post جنوبی سوڈان کی بگڑتی صورتحال: پاکستان کا امن معاہدے پر نیک نیتی سے عمل اور جامع مذاکرات پر زور
انڈونیشیا Next post انڈونیشیا کو درمیانی درجے سے نکل کر ترقی یافتہ ملک بننا ہوگا: عبدالمہیمن اسکندر