
وزیراعظم شہباز شریف کا عالمی یومِ پُرامن بقائے باہمی پر پیغام: مکالمہ، رواداری اور باہمی احترام کو فروغ دینے کی ضرورت
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عالمی یومِ پُرامن بقائے باہمی کے موقع پر قوم پر زور دیا ہے کہ وہ تقسیم، عدم برداشت اور تعصبات کے بجائے مکالمے، باہمی سمجھ بوجھ اور رواداری کے عزم کی تجدید کرے تاکہ پُرامن بقائے باہمی محض ایک تصور نہ رہے بلکہ دنیا بھر کے عوام کے لیے ایک عملی حقیقت بن سکے اور مثبت عملی اقدامات کی ترغیب دے۔
عالمی یومِ پُرامن بقائے باہمی کے حوالے سے اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ قوم کو آنے والی نسلوں کے لیے یہ مثال قائم کرنی چاہیے کہ اختلافات خطرہ نہیں بلکہ سیکھنے اور آگے بڑھنے کے مواقع ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا، “آئیے ہم سب مل کر ایسی دنیا کی تعمیر کے لیے کام کریں جہاں تصادم کے بجائے تعاون اور امن کو فروغ حاصل ہو۔”
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اقوامِ عالم کے ساتھ مل کر عالمی یومِ پُرامن بقائے باہمی منا رہا ہے، جو ہر سال اقوامِ متحدہ کے تحت ہم آہنگی، اتحاد اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے منایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس دن کا مقصد تعلیم، مکالمے اور بین المذاہب تعاون کے ذریعے دنیا میں تنازعات اور کشیدگی کا مقابلہ کرنا ہے۔ ان کے مطابق یہ دن اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ دنیا میں دیرپا امن اسی وقت ممکن ہے جب لوگ وقار، باہمی احترام اور سمجھ بوجھ پر مبنی طرزِ عمل اختیار کریں۔
وزیراعظم نے کہا کہ دنیا مختلف ثقافتوں، مذاہب، زبانوں اور نظریات کے تنوع سے مالا مال ہے اور یہ تنوع کسی خطرے کے بجائے ایک مثبت طاقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں دنیا کو تنازعات، تقسیم اور متعدد عالمی چیلنجز کا سامنا ہے، جس کے باعث پُرامن بقائے باہمی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر اس امر پر بھی زور دیا کہ اسلامی تعلیمات رواداری، شمولیت اور دیگر اقوام و برادریوں کے ساتھ ہم آہنگ اور پُرامن طرزِ عمل کی تلقین کرتی ہیں۔