پوٹھوہاری زبان کی ترویج وترقی ۔۔ حکومت پنجاب کا مستحسن قدم

Read Time:5 Minute, 53 Second

حکومت پنجاب نے قومی اور صوبائی زبانوں کے ساتھ ساتھ مقامی اور مادری زبانوں کی ترویج و ترقی کے لیے پنجاب اسمبلی میں The Punjab Maan Boli Bill 2025کے نام سے ایک بل پیش کیاہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 1973کے آئین کا آرٹیکل 251(3)، حکومت کو قومی زبان کے ساتھ ساتھ صوبائی اور مقامی زبانوں کی ترویج و ترقی کے لیے اقدامات کرنے کا اختیار دیتا ہے اور اسی سے حاصل شدہ اختیارات کے تحت اس بل میں پنجاب کے تمام ضلعوں میں بولی جانے والی مقامی زبانوں کو پرائمری کی سطح تک ایک لازمی مضمون کے طورپر متعارف کروانے اور پڑھانے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ اس بل کا مقصد پنجاب کی سطح تک مادری زبانوں اور مقامی ثقافتوں کا تحفظ ہے جو کہ حکومت پنجاب کا ایک انتہائی مستحسن فیصلہ ہے جس سے یقینا اہل پوٹھوہار کے بھی دیرینہ مطالبے کے بر آنے کی امید پیدا ہو گئی ہے جس کے لیے وہ عرصہ دراز سے کوششیں کرتے آئے ہیں اور اس کے لیے اعلیٰ حکومتی ایوانوں کے دروازے بھی کھٹکھٹاتے رہے ہیں۔ ایک عوامی حکومت کی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ وہ اپنے عوام کی بنیادی ضروریات کو مدنظر رکھ کر ان کی خواہشات اور ضروریات کے مطابق اپنی پالیسیاں مرتب کرے۔ عوامی کی ٖضروریات محض نان نفقے تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ انہیں اپنے اور اپنے زیرکفالت افراد کی بہتر زندگی کے لیے اپنے معاشرتی اور سماجی پس منظر کے مطابق معیاری تعلیم و تربیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے جس کی فراہمی حکومت وقت کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے۔

زبان کسی بھی قوم کی شناخت اور پہچان ہوتی ہے جو اس کے جذبات و احساسات کے اظہارکا ذریعہ ہوتی ہے اور اس کے انفرادی اور اجتماعی اندازِ فکر کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ کسی بھی قوم کی ثقافت، اس کی تاریخ اور فن و ادب اس کی اپنی مادری زبان کی ہی مرہون منت ہوتی ہے۔ کسی بھی فرد کو اس کی اپنی مادری زبان میں اپنا مافی الضمیر بیان کرنے سے روک دینا اسے جیتے جی مار دینے کے مترادف ہوتا ہے۔ مادری زبان ایک بچے کو سکھائی نہیں جاتی بلکہ وہ اپنے گھریلو ماحول میں رہتے ہوئے اپنے والدین، بہن بھائیوں اور دیگر عزیز واقارب سے سیکھتا ہے اور چاہے مذہب ہو، ثقافت ہویا تہذیب و تمدن جو کچھ بھی وہ اپنی مادری زبان میں سیکھے گا وہ اسے زندگی بھر نہیں بھلا سکے گا۔ ہر انسان فطری اور جبلی طور پر اپنی مادری زبان کے ساتھ منسلک ہوتا ہے جو اس کی رگ و پے میں سرایت کیے ہوئے ہوتی ہے جو اس کی ذہنی و روحانی بالیدگی کا باعث بھی بنتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر کسی فرد کو اس کی زبان اور تہذیب و تمدن سے زبردستی علیحدہ کر دیا جائے تو وہ جسمانی طور پر تو زندہ رہ پائے گا لیکن ذہنی طور وہ بنجر، مفلوج اور اپاہج ہو جائے گا اور اگر اسے اس بنیادی حق سے محروم نہ کیاجائے تو وہ ذہنی طور پر مطمئن ہو کر ایک نئی امنگ ایک نئے جنون اور نئے ولولے کے ساتھ زندگی کی دوڑمیں شامل ہو کر اپنی بہترین صلاحیتیں برؤے کار لاکر معاشرے میں مثبت تبدیلی کا باعث بنے گا جو ملک و قوم کی تعمیر و ترقی کے لیے بھی انتہائی اہم ہوگا۔

مادری زبان کسی بھی فرد کی ذاتی، تہذیبی اور ثقافتی شناخت کا ذریعہ ہوتی ہے اور اسے اس سے علیحدہ کر کے کسی اور زبان کو اپنانے پر مجبور کرنے کی اجازت دنیا کا کوئی بھی قانون نہیں دیتا۔ انسان کی ذہنی ارتقاء میں اس کی مادری زبان کا بہت زیادہ عمل دخل ہوتا ہے اور زیادہ زبانیں جاننا اس کی ذہنی وسعت میں اضافہ بھی کرتی ہیں۔ اپنی مادری زبان اختیار کرنا، اسے اظہارخیال کا ذریعہ بنانا ہر ایک انسان کا بنیادی حق ہوتا ہے جوکسی بھی صورت میں سلب نہیں کیاجاسکتا۔ کسی کے اپنی مادری زبان اپنانے سے کسی دوسرے فرد پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور نہ ہی کسی کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوتی ہے کہ جس طرح آج کل پنجاب اسمبلی میں ماں بولی بل پیش کرنے سے کچھ نام نہاد دانشور اپنے ذہنی فتور کے تحت غلط فہمیاں پیدا کر رہے ہیں کہ اس طرح پنجاب کی شناخت ختم ہو جائے گی اور پنجاب تقسیم ہو جائے گا۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات جنہیں گلگت بلتستان کا نام دیا گیا ہے وہاں بلتی، شینا، بروشسکی، کھوار، وخی اور چترالی زبان بولنے سے کیا اس کی کسی حیثیت میں فرق پڑا ہے اور آزادکشمیر کہ جس کا رقبہ راولپنڈی ڈویژن سے بھی کم ہے اور وہاں کشمیری، پہاڑی، پوٹھوہاری، گوجری، بلتی، شینا اور ہندکو بولی جاتی ہیں اوراس کے ساتھ ساتھ وہاں اب کشمیری اور پہاڑی کے ساتھ ساتھ گوجری زبان کو درسی زبان کا درجہ دینے سے کیا آزادکشمیر کو ریاست جموں و کشمیر کے ایک علاقے کے طور پر جاننے میں کوئی فرق پڑا ہے۔ صوبہ خیبرپختونخواہ میں جہاں پشتو، ہندکو، توروالی، گوجری، سرائیکی، گاوری اورچترالی زبانوں اور حال ہی میں وہاں کی صوبائی اسمبلی کی طرف سے گوجری زبان کو اسمبلی کی چھٹی سرکاری زبان کا درجہ دینے کی وجہ سے کیا اس کی پختون شناخت ختم ہو گئی ہے۔

صوبہ سندھ میں اس وقت سندھی کے ساتھ ساتھ بلوچی، سرائیکی، میمنی، گجراتی، اردو، بنگالی، بہاری، پشتو اور مارواڑی جیسی زبانیں بولی جاتی ہیں کیااس سے اس کی سندھی پہچان میں کوئی کمی واقع ہوئی ہے اور کیا بلوچی، براہوی، پشتو، دراوڑی۔ کھیترانی یا گوجری زبانیں بولنے کی وجہ سے بلوچستان کی سالمیت میں کوئی دراڑ پیدا ہوئی ہے اسی طرح پنجاب میں بھی پوٹھوہار ی، سرائیکی یا کسی دوسری زبان بولنے والوں کو ان کا بنیادی حق دینے سے نہ تو پنجاب کی پنجابی شناخت اور پہچان پر کوئی حرف آئے گا، نہ ہی وہ پنجاب کے تقسیم ہونے کی کوئی وجہ بنیں گی اور نہ ہی پنجاب جغرافیائی طور پر کبھی بھی تقسیم ہو گا بلکہ ان نام نہاد دانشوروں کی ان بے سروپا باتوں کی وجہ سے پنجاب کے عوام فکری اور ذہنی طور پر ضرور تقسیم ہو جائیں گے جو یقینا پنجاب کی پنجابیت کو کمزور کریں گے۔ پنجاب کے لوگ شمالی پنجاب کے بلند و بالا پہاڑوں سے لے کے جنوبی پنجاب کے ریگستانوں تک کاروباری، ثقافتی اور تمدنی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ان کا یہی اتحاد، اتفاق و یگانگت پنجاب کو دوسرے صوبوں سے ممتاز کرتا ہے جو کہ پنجاب کی ترقی و خوشحالی کا ضامن بھی ہے۔

مادری زبانوں اور مقامی ثقافتوں کے تحفظ کے لیے اس مجوزہ بل میں جو اقدامات تجویز کیے گئے ہیں وہ یقینا وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی مثبت اور عوام دوست سوچ کے آئینہ دار ہیں اور وہ اس بات کی بھی دلیل ہیں کہ محترمہ مریم نواز شریف کو پنجاب کے ہر علاقے کے عوام کی بنیادی ضروریات کے ساتھ ساتھ ان کی فکری، ذہنی اورتمدنی و ثقافتی نشوونما کا بھی احساس ہے۔ اہلیان پوٹھوہار اپنی مادری زبان کی ترویج و ترقی کے دیرینہ مطالبے کو پنجاب حکومت کی طرف سے پذیرائی بخشنا پوٹھوہار کے عوام کے لیے یقینا باعثِ طمانیت ہے اور وہ اس کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کے انتہائی شکرگزارہیں!!!!

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
پاکستان Previous post پاکستان کا فلسطینی عوام سے غیرمتزلزل یکجہتی اور منصفانہ حل کے عزم کا اعادہ
شہزادی Next post شہزادی للا مریم کی زیر صدارت سفارتی کلب کے سالانہ "سولڈیریٹی بازار” کا افتتاح