
کراوانگ میں پی ٹی کیٹیب کی ای وی بیٹری فیکٹری 2026 کی تیسری سہ ماہی میں فعال ہونے کا امکان
جکارتہ، یورپ ٹوڈے: پی ٹی کیٹیب (PT CATIB) نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ مغربی جاوا کے علاقے کراوانگ میں قائم اس کی بڑے پیمانے پر الیکٹرک وہیکل (ای وی) بیٹری بنانے کی فیکٹری 2026 کی تیسری سہ ماہی میں کام کا آغاز کرنے کے لیے درست سمت میں گامزن ہے، جس کے جولائی 2026 میں فعال ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
انڈونیشیا کی ایوانِ نمائندگان (ڈی پی آر) کے ساتھ ہونے والی ایک سماعت کے دوران پی ٹی کیٹیب کے ڈائریکٹر برائے کارپوریٹ پبلک افیئرز، بایو ہرماوان نے بتایا کہ منصوبے کی تکمیل کی رفتار تیز کر دی گئی ہے اور ابتدائی طور پر ستمبر میں متوقع آغاز کو مزید آگے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے پر تقریباً 7 کھرب انڈونیشیائی روپیہ (Rp7 trillion) کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے اور فیکٹری سے سالانہ 6.9 گیگا واٹ آور (GWh) بیٹریوں کی پیداوار متوقع ہے، جس سے انڈونیشیا کو خطے میں الیکٹرک وہیکل اور توانائی ذخیرہ کرنے کے حل کے ایک اہم مرکز کے طور پر مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔
بایو ہرماوان کے مطابق یہ سہولت صرف آٹوموٹیو بیٹریوں تک محدود نہیں ہوگی بلکہ انرجی اسٹوریج سسٹمز (ESS) بھی تیار کرے گی، تاکہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر قابلِ تجدید توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ پائیدار نقل و حمل اور عالمی سبز توانائی کے اقدامات کی حمایت میں اہم کردار ادا کرے گا۔
فیکٹری میں 18 میگا واٹ آور (MWh) کا شمسی توانائی نظام بھی نصب کیا جائے گا، جو آپریشنل توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں معاون ہوگا اور اس طرح یہ منصوبہ بین الاقوامی ماحولیاتی اور گورننس معیارات سے ہم آہنگ ہوگا۔
منصوبے کے مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد تقریباً 3,000 افراد کو روزگار فراہم کیے جانے کی توقع ہے، جو صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ سماجی اثرات کے لیے پی ٹی کیٹیب کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ تکنیکی مہارت کے فروغ کے لیے کمپنی انڈونیشیائی عملے کو خصوصی تربیت کے لیے چین بھیج رہی ہے جبکہ مقامی چھوٹے کاروباروں کو سپلائی چین میں شامل کیا جا رہا ہے۔
کراوانگ میں قائم یہ منصوبہ مربوط ای وی بیٹری انڈسٹری ایکو سسٹم کا حصہ ہے، جو سرکاری ادارے اینٹام، انڈونیشیا بیٹری کارپوریشن اور چین کی سی بی ایل (CBL) کے درمیان ایک اسٹریٹجک شراکت داری پر مشتمل ہے۔
بایو ہرماوان نے بتایا کہ جون 2025 میں صدر پرابوو سوبیانتو کی جانب سے سنگِ بنیاد رکھے جانے کے بعد منصوبے پر تیزی سے پیش رفت ہوئی ہے، سائٹ کا بنیادی ڈھانچہ مکمل کر لیا گیا ہے اور آلات کی تنصیب کا عمل جاری ہے۔
یہ فیکٹری انڈونیشیا کی الیکٹرک وہیکل صنعت کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ عالمی قابلِ تجدید توانائی کی سپلائی چین میں بھی اہم کردار ادا کرے گی، جس سے ملکی الیکٹریفیکیشن کے اہداف اور بین الاقوامی برآمدات دونوں کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔