
وزیراعلیٰ مریم نواز کا پنجاب میں اینٹی ڈرون یونٹ فعال بنانے اور اضلاع میں سیلز قائم کرنے کا حکم
لاہور، یورپ ٹوڈے: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں اینٹی ڈرون یونٹ کو مکمل طور پر فعال بنانے کی ہدایت جاری کر دی ہے جبکہ اضلاع کی سطح پر بھی اینٹی ڈرون سیلز قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ ہدایات انہوں نے صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں، جس میں صوبے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں آپریشن ضرب الحق کی کامیابی پر پاک فوج کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور وطن کے دفاع میں جان قربان کرنے والے شہداء کے لیے دعا بھی کی گئی۔
اجلاس کے دوران عوامی تحفظ کے لیے پنجاب حکومت کی جانب سے کیے گئے پیشگی سکیورٹی اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی وطن واپسی کے عمل پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ اب تک 10 ہزار 500 سے زائد غیر قانونی افغان شہریوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے جبکہ روزانہ کی بنیاد پر کومبنگ آپریشن جاری ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ اقدامات، بہتر رابطہ کاری اور تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ انہیں پاکستان اور اس کی قیادت پر فخر ہے اور متعدد چیلنجز کے باوجود ملک کامیابیوں کی جانب گامزن ہے۔ حالیہ احتجاجی مظاہروں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاہور پولیس نے صورتحال کو مؤثر انداز میں سنبھالا اور پُرامن مظاہرین کے تحفظ کو یقینی بنایا، حتیٰ کہ مظاہرین کو افطار بھی فراہم کی گئی۔ انہوں نے صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق کو علما سے مسلسل رابطہ رکھنے پر سراہا۔
انہوں نے کچے کے علاقے میں سکیورٹی آپریشن کی کامیابی پر پاک فوج اور سندھ پولیس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ساڑھے تین ماہ سے اس علاقے میں اغوا برائے تاوان کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ علاقے کی ترقی کے لیے 10 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے جس میں سیف سٹی انفراسٹرکچر، تعلیم اور صحت کے منصوبے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 1500 اہلکاروں کی تعیناتی اور بلٹ پروف گاڑیوں کی فراہمی بھی کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ شرپسند عناصر کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار 74 ہزار مساجد کے ائمہ کے لیے ماہانہ اعزازیہ مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بسنت کے موقع پر موٹر سائیکلوں سے متعلق غیر محفوظ سرگرمیوں پر پابندی کی مکمل پاسداری عوام کے قانون کے احترام کا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاہور میں اسکولوں اور ہوٹلوں کو بند کیے بغیر شہر کو اسموگ فری بنانے کی سمت میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کا حکم دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس معاملے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور چینی شہری صرف پولیس اسکواڈ کی نگرانی میں سفر کریں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ لاہور میں ٹریفک مینجمنٹ کے لیے چینی ماڈل پر مبنی مصنوعی ذہانت (AI) ٹیکنالوجی متعارف کرائی جائے گی۔
اجلاس میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور سکیورٹی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کو سراہا گیا۔ اجلاس میں کور کمانڈر لاہور سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔
دریں اثنا، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی مشترکہ صدارت میں ہونے والے ایک اجلاس میں اصولی طور پر مال روڈ لاہور پر احتجاجی اجتماعات اور ریلیوں پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ اس تاریخی شاہراہ کے ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھا جا سکے۔
اجلاس میں لاہور ہیریٹیج ایریاز ری وائیول (LAHAR) منصوبے کے تحت مقبرہ جہانگیر کو مرکزی سڑک سے ملانے کے لیے ایک پل کی تعمیر کے منصوبے کی بھی منظوری دی گئی، جبکہ شہر میں تاریخی مقامات کی بحالی کے منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ بھی لیا گیا۔