
قائداعظم ؒ کااحسان ۔۔ ہماراپاکستان
پچھلے دنوں بھارتی صوبہ بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے ایک تقریب میں نوکریوں کے تقررنامے تقسیم کرتے ہوئے ایک مسلمان ڈاکٹر لڑکی، جس نے نقاب پہنا ہوا تھا، کمال بے غیرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا نقاب نوچ ڈالاجس کے ردعمل کے طور پر مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندو، سکھ اور عیسائیوں سمیت پورا بھارت سراپا احتجاج بن گیا اور نتیش کمار اس عوامی دباؤ کے سامنے دم نہ مار سکے اور انہیں استعفیٰ دے کر گھر جانا پڑا۔ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ یہ پہلی دفعہ نہیں ہوا بلکہ جب سے مسلمان انگریزوں کے محکوم بنے تو ہندو اپنی اکثریت کے زعم میں مسلمانوں سے پچھلے ایک ہزار سال کی اپنی نام نہاد غلامی کا بدلہ لینے کے لیے نکل کھڑے ہوئے حالانکہ مسلم حکومتوں میں انہیں کسی امتیازی سلوک کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
جنگ آزادی کے بعد مسلمان انگریزوں کے زیرعتاب تو تھے ہی لیکن ہندو بھی مسلمانوں کے خلاف صف آرا ہو گئے تھے کیونکہ انہیں یقین تھا کہ جلد یا بدیر انگریزوں کی رخصتی کے بعد ہندوستان کے اقتدار کا ہما ان کے ہی سر پر بیٹھے گا اس لیے وہ اپنے علاوہ کسی قوم کو بھی ہندوستانی تسلیم کرنے پہ تیار نہ تھے۔ مسلمانوں کے لیے وہ دور انتہائی کٹھن اور تکلیف دہ تھا اور انہیں اپنی علیحدہ شناخت کے تحفظ کی ایک بہت بڑی آزمائش کا سامنا تھا۔ ان نامساعد حالات میں قائداعظم محمد علی جناحؒ کی صورت میں ایک امید کی کرن نظر آئی جنہوں نے مسلمانوں کے شاندار ماضی کی بحالی اور ہندو اکثریت میں ان کے بحثیت ایک علیحدہ قوم کے منوانے کا بیڑہ اٹھایا اور اپنی خداداد صلاحیتوں سے ہندوستان میں صرف ایک قوم ہونے کے ہندوؤں کے دعوے کو باطل قرار دیتے ہوئے انگریزوں سے مسلمانوں کی ایک علیحدہ قوم کے طورپر حیثیت کو منوا لیاجو آگے چل کر تحریک پاکستان کی بنیاد بنی اور اسی دو قومی نظریہ کی بنیاد پر علامہ محمد اقبالؒ نے1930ء کے مسلم لیگ کے الہ آباد کے اجلاس میں ہندوستان میں ایک مسلم ریاست کے قیام کا تصور پیش کیا۔ قائداعظم ؒنے تاریخی اور معروضی حقائق کی بناء پر بھرپور دلائل سے علیحدہ مسلم قومیت کے مقدمے میں کامیابی حاصل کی۔ قائداعظمؒ شروع میں تو ہندومسلم اتحاد کے زبردست قائل تھے لیکن ہندوؤ ں کے متعصبانہ رویے نے انہیں اپنی رائے بدلنے پر مجبور کر دیا اور انہوں نے یہ یقین ہو گیا کہ مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کا قیام ازبس ضروری ہے ورنہ وہ ہندو اکثریت کے سمندر میں غرق ہو جائیں گے۔ قائداعظم کی یہ سوچ ہندوستان کے کروڑوں مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن بن گئی گویا ان کے اندر اپنے علیحدہ مسلم تشخص کے اظہار کی چھپی ہوئی اس خواہش کو زبان مل گئی جو انگریزوں نے ہندوستان پر قبضے کے بعد انہیں اپنا اولین حریف سمجھتے ہوئے ان سے چھین لیا تھا اور پورے ہندوستان میں سب مسلمان پیروجوان اور مردوعورت کی زبان پر صرف ایک ہی نعرہ تھا کہ ” بٹ کے رہے گا ہندوستان، لے کے رہیں گے پاکستان”۔ قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں مسلمان اپنے عزم صمیم سے اپنی منزل کی طرف بڑھتے ہی چلے جا رہے تھے اور 23مارچ 1940 ء کو وہ مبارک ساعت آ ہی گئی جب مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کی قرارداد کثرت رائے سے منظورہو گئی اور صرف سات سال کے مختصر عرصے میں ایک آزاد اور خودمختار مسلم ریاست پاکستان کے نام سے دنیا کے نقشے پر ابھری اور مسلمان کشاں کشاں اپنے اس علیحدہ وطن کی طرف رواں دواں ہوگئے کہ جہاں وہ اپنی مذہبی، ثقافتی، تہذیبی اور معاشرتی اقدار کے مطابق زندگی گزارنے میں آزاد ہوں گے۔ پاکستان کے قیام سے گویا مسلمانوں کو ایک گوہر مراد حاصل ہو گیا اور پورے ہندوستان سے مسلمان اپنی آرزؤں کی منزل کی طرف عازم سفر ہوئے تو ہندومتشدد جتھوں کے ساتھ ساتھ ہندوؤں کی محبت میں پاگل کچھ کانگریسی مسلمان بھی ان کی راہ میں حائل ہوئے اور مسلمانوں کو بغیر کسی رنگ ونسل اور مذہب و عقیدہ کے امتیاز کے بغیر ایک مہان بھارت کا سندیش دیا اور یہ سنہرا خواب دکھانے والوں میں مولانا ابوالکلام آزاد بھی شامل تھے جن کی یقین دہانی پر مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے پاکستان کی طرف ہجرت کرنے کا ارادہ ترک کرکے اپنے ہندو اور سکھ ہموطنوں کے ساتھ مل کر "وندے ماترم” کا نعرہ بھی لگایا اور وہ ان کے ساتھ مل کر” سارے جہاں میں اچھاہندوستاں ہمارا ” کا راگ بھی الاپا لیکن جیسے جیسے بھارت کے اس چہرے پر سے نقاب اترا اور پنڈت نہرو کی منافقانہ مسکراہٹ کی جگہ ان کی کرخت صورت سامنے آئی تو بھارت کے مسلمان تو کیا چھوٹی ذاتوں کے ہندو، سکھ اور عیسائی بھی سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور وقت نے دیکھا کہ آنے والے دنوں میں بھارت میں ان لوگوں کے لیے زندگی ایک بھیانک خواب بن کر رہ گئی۔ اسی بھارت میں ہر روز مسلمانوں کو بھارتی ہندو غنڈوں کی تضحیک اور تشدد کا نشانہ بننا پڑتا اور انہیں کسی طرف سے بھی دادرسی کی کوئی کرن نظر نہ آتی اور موجودہ دنوں میں بھارت میں ایک مسلمان لڑکی کے ساتھ بہیمانہ سلوک پر پورے بھارت کے نہ صرف مسلمان بلکہ دوسرے پسے ہوئے طبقات بھی بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی دوراندیش بصیرت کے قائل ہو گئے اور اپنے پرکھوں کے فیصلے پر پشیمان ہوئے کہ قائداعظمؒ کی بات نہ مان کر انہوں نے بہت بڑی غلطی کی۔ قائداعظمؒ کی دوربین نگاہوں نے بھارت کے اس بہیمانہ چہرے کو بہت پہلے پہچان لیا تھا اور انہوں نے اپنی قوم کو ہندو اکثریت کے سمندر میں غرق ہونے سے بچا کر ان کے سروں پر پاکستان کی صورت میں ایک باعزت اور باوقار سائبان مہیا کر دیا۔ قائداعظم ؒکی کرشماتی شخصیت میں برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے لیے ایک نجات دہندہ کی تصویر دیکھ لی تھی اور انہیں یہ یقین ہو گیا تھاکہ یہی وہ شخصیت ہے جو انہیں ان کی منزل پر کامیابی سے پہنچا سکتی ہے۔ قائداعظم ؒنے اپنی فراست اور نیک نیتی سے ایک منتشر اور بکھری ہوئی قوم کو ایک مرکز پر لاکر ایک بےمثال کارنامہ سرانجام دیا اور اس پر کیلیفورنیا یونیورسٹی کے پروفیسر اسٹینلے وولپرٹ نے اپنے کتاب، "جناح آف پاکستان ” میں قائداعظم کو یوں خراج تحسین پیش کیا کہ ” دنیا میں بہت کم ایسے لوگ ہوتے ہیں جو تاریخ کا دھارا بدل دیتے ہیں اور ایسے لوگ تو اور بھی کم ہوتے ہیں جو دنیا کا نقشہ بدل دیتے ہیں اور ایسا تو کوئی کوئی ہوتا ہے کہ جو ایک نئی مملکت قائم کردے اور محمدعلی جناحؒ ایسی شخصیت ہیں کہ جنہوں نے بیک وقت یہ تینوں کارنامے سرانجام دیے”۔ قائداعظمؒ نے اپنی مسحورکن شخصیت سے ایک شکست خوردہ اوربے چارگی میں مبتلا قوم میں جوش وجذبہ پیدا کرکے انہیں ایک عظیم مقصد اور ایک منزل کی طرف گامزن کیا۔ آزادی کی نعمت کا کوئی نعم البدل نہیں اور آزادی کا ایک سانس غلامی کے کروڑوں سانسوں سے بہتر ہے اور قائداعظم کاہی یہ احسان ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو دنیا میں رہنے کے لیے ایک باوقار وطن لے کردیا جو پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے سرمایہ افتخار ہے جس کے لیے پوری پاکستان قوم ان کی تاحشر احسان مند رہے گی اور ان کے 150ویں یوم پیدائش پر انہیں بھرپور خراج ِ عقیدت پیش کرتی ہے!!! بقول فیاض ہاشمی
؎ یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران!
اے قائداعظمؒ! تیرااحسان ہے احسان!