
رام مندر اور بابری مسجد

جس ملک میں مذہبی تصادم کے نتیجے میں مذہب اور انسانیت دونوں کو نقصان پہنچے وہاں عبادت گاہوں کا قیام بہت بے معنی لگتا ہے۔ بھارت کے تمام عوامی و سیاسی حلقوں میں آجکل مندر مسجد کی بحث جاری ہے۔ ہندو مسلم مندر مسجد پر سیاست کی جا رہی ہے۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ بھارتی جنتا پارٹی اور ہندوتوا انتہاء پسند تنظیم آر ایس ایس (راشتریا سوائم سویک سنگھ) کا قیام اور پروان مذہبی تقسیم پر ٹکے ہیں۔ بھارت کے شہر ایودھیا میں مسلمانوں کی تاریخی بابری مسجد کو ہندتوا انتہاء پسند تنظیم وشوا ہندو پریشد نے 6 دسمبر 1992 کو اس بات پر شہید کیا تھا کہ اس کے نیچے شری رام بھگوان کا مندر اور انکی جنم بھومی ہے۔ اس دوران ہندو مسلمان دنگوں میں بدترین خون ریزی ہوئی تھی جس کے نقصان کی تلافی ممکن نہیں ہے۔
بابری مسجد گرائے جانے کے بعد اس مقام کی کھدائی کے دو مبصرین پروفیسر ورما اور پروفیسر مینن نے سال 2010 میں ایک پیپر میں انکشاف کیا کہ بابری مسجد کے مقام کی کھدائی میں 14 شکایات درج کروائی گئی تھیں۔ پروفیسر ورما اور مینن نے بتایا کھدائی میں کئی ستونوں کی بنیادیں بنائی گئی۔ یعنی کھدائی سے بنائے گئے پہلے کے نہیں ملے تھے۔ جو ساخت واقعی میں کھودا گیا یعنی بابری مسجد کے نیچے ملا اس کی مغربی دیوار بہت زبردست تھی اور وہ مشرقی دیوار کی طرف ہلکی جھکی ہوئی تھی۔ جو کہ ایک مسجد میں عام طور پر دیکھنے کو ملتا یے۔ جہاں مسجد کا محراب بھارت میں مغربی دیوار میں بنا ہوتا ہے کیونکہ مکہ بھارت کے مغرب میں ہے۔ پروفیسر ورما اور مینن کے حساب سے بابری مسجد کے نیچے بارہویں سے تیرہویں صدی میں بنی ہوئی ہوئی ایک مسجد ملی تھی۔ مگر بی جے پی اور ہندتوا گروپوں نے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے مسلمانوں کا قتل عام کروایا اور اس کے لئے اپنے بھگوان کے نام کا استحصال بھی کیا۔
2014 میں جب بھارتی جنتا پارٹی اقتدار میں آئی تھی تو ہندووں نے یہ سوچ کر جشن منایا کہ اچھے دن آئیں گے۔ مگر درحقیقت یہ ہندووں کے لئے سیاہ دن تھا۔ 2014 سے بھارت میں ہندو کمزور ہو رہا ہے۔ ہندووں کو اب گھر بار، دفتر، کام کاج، سکول اور بھارت بھی نظر نہیں آتا۔ ہندو اب صرف مندر جاتے ہیں۔ بھاجپا سرکار نے مذہبی منافرت سے ہر طبقے کی سوچ کو اس قدر لاچار کر دیا ہے کہ آئے روز بھارت میں ہندو خطرے میں آ جاتا ہے۔
1949 میں بابری مسجد ایودھیا میں بھگوان رام کی مورتی زبردستی رکھنے والے 5 افراد کے خلاف ایف آئی آرز درج کی گئی تھیں۔ ان میں وزیر اعلیٰ اتر پردیش یوگی ادیتیاناتھ کے ماہا گرو ماہنت دگوجے ناتھ بھی تھا۔ ایک آر ایس ایس کا لیڈر تھا۔ 22 دسمبر 1949 تک ہر جمعے کو بابری مسجد میں جمعے کی نماز ہوتی تھی۔ مگر زبردستی مورتی رکھنے کی وجہ سے بابری مسجد میں نماز کا سلسلہ رک گیا اور مسجد کو تالا لگوا دیا گیا۔
بھارتی سپریم کورٹ نے رام مندر کیس کا فیصلہ شواہد کے بجائے ملک میں جاری مذہبی انتہا پسندی کی بنیاد پر دیا تھا۔ جس ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے کے نئیر نے بابری مسجد کو تالا لگوایا تھا اسے بعدازاں رکن اسمبلی بنایا گیا۔ ایودھیا میں ہندو مسلم فساد کے وقت تعینات پولیس افسر کو دو مرتبہ بھارتی جنتا پارٹی نے رکن اسمبلی بنایا۔ نیز بابری مسجد گرانے کے پیچھے سیاسی ملی بھگت تھی۔ زبردستی مورتی رکھ کر ہندووں کو اکسایا گیا کہ یہیں رام مندر ہے۔ یہ خالصتاً سیاسی کام تھا۔ جس کے بہکاوے میں عوام آ گئی۔ بابری مسجد اور رام مندر کا مسئلہ کبھی مذہبی مسئلہ تھا ہی نہیں۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ بھارت میں ہندو دھرم کو سیاسی قیادت سے خطرہ ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے 2025 میں رام مندر کی تکمیل کو ایک سال مکمل ہونے پر رام مندر میں پانچ سو سال پرانا بھگوا جھنڈا لہرایا۔ شاہانہ تقریب پر کروڑوں روپیہ خرچ کیا گیا۔ اس موقع پر ایودھیا شہر کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا۔ عوام کو گھسنے نہیں دیا گیا اور مندر میں 5 لہریا سیکیورٹی کی گئی جن میں اے ٹی ایس، این ایس جی، ایس پی جی، سی آر پی ایف، اور بی ایس سی کے ہزاروں اہلکار تعینات تھے۔ شہر کو ہزاروں پھولوں سے بھی سجایا گیا۔ محض ایک جھنڈے کے لئے فل سیاسی شو کا انعقاد کیا گیا وہ بھی ٹیکس پئیرز کے پیسوں پر جن کو شری رام کے درشن بھی نصیب نہ ہوئے۔
بھگوا جھنڈا لہرانے کے ساتھ وزیراعظم نریندر مودی نے رام مندر میں رام للا کی مورتی کی ایک سال مکمل ہونے پر پران پریتیکھشیا (مقدس پوجا) بھی کی۔ پران پریتیکھشیا ہندو مذہب میں کسی بھگوان یا دیوی کی مورتی کی ایسی پوجا ہوتی ہے جس سے اس مورتی میں جان ڈل جاتی ہے۔ مگر ہندو مت کی تعلیمات کے مطابق پران پریتیکھشیا صرف ایک مذہبی شخص یعنی پنڈٹ یا پجاری ہی کر سکتا یے جو شد براہمن ہو۔ مگر بھارت میں ہندو مذہب کے سب سے بڑے مذہبی رہنما شنکر آچاریوں کو اس تقریب میں مدعو نہیں کیا گیا۔ اور تو اور ہندوؤں کے بڑے بڑے پنڈتوں کو بھی تقریب سے دور رکھا گیا۔ یعنی ہندو مذہب کی تعلیمات کے منافی کام تو خود نریندر مودی نے کر ڈالا۔ یہ ہندو مذہب کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
ہندو مذہبی رسومات کے غلط طریقہ کار پر ہندو مذہبی رہنما سخت اعتراضات اٹھا رہے ہیں اور رام مندر میں ہونے والی اس پران پوجا کی تقریب کو بی جے پی آر ایس ایس کی تقریب قرار دیا جا رہا ہے۔ دراصل نریندرمودی اور بی جے پی جس ہندو مذہب کی بات کرتے ہیں وہ ہندو معاشرے کو چار طبقات میں تقسیم کرتا یے۔ اسی لئے وزیراعظم نریندرمودی کی رام مندر جھنڈا لہرائی اور پران پوجا کی تقریب میں ایودھیا کے دلت رکن اسمبلی اوادیش پراساد کو مدعو نہیں کیا گیا۔ اگر بھارتی ہندو یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ کام ہندووں کی جیت ہے تو ان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ بھارت میں براہمن معاشرے کے قیام کی کوشش ہے۔ جس میں دیگر تمام ذاتیں صرف خادم کا کردار ادا کریں گی۔ بھاجپا سرکار یہی چاہتی ہے ملک میں متاثرہ ذاتیں براہمنی نظام کو قبول کر لیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے رام مندر میں اسی سوچ/ نظریے کے ہندوتوا کا جھنڈا لہرایا تھا۔ ایودھیا شہر کے مقدس رام مندر کمپلیکس میں بھی کرپشن کے کئی انکشافات سامنے آئے ہیں جن میں بی جے پی کے لیڈران کے ملوث ہونے کی بازگشت ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق رام مندر کے نام پر دو کروڑ روپے کی زمین خرید کر چار گھنٹے بعد 18 کروڑ میں رجسٹر کی گئی تھی۔ لیکن اگر کوئی اس پر آواز اٹھائے گا، شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرے گا تو اسے مذہب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
ہندوئوں کی کسی رنگ، نسل یا مذہب سے جنگ ہے ہی نہیں۔ ایودھیا میں رام مندر بی جے پی اور آر ایس ایس کا چندہ اکٹھا کرنے کا پوائنٹ بن گیا ہے۔ ہندووں کا مندر ہوتا تو مذہبی رہنماؤں اور عوام کو پوجا پاٹ کی اجازت ہوتی۔ سیاسی اثر و رسوخ سے بھارت میں ہندو بانٹا جا رہا ہے۔ ذات پات الگ کر کے ہندو کو کمزور کیا جا رہا ہے۔