
ژوب میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج کے 10 دہشت گرد ہلاک
اسلام آباد،یورپ ٹوڈے: سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع ژوب میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی گروپ فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دس دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ یہ بات پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ایک بیان میں کہی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 24 فروری کو ژوب میں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی کارروائی میں آٹھ بھارتی اسپانسرڈ خوارج کو کامیابی سے ہلاک کیا گیا تھا۔ اس کے بعد 25 فروری کو علاقے میں موجود فتنہ الخوارج کے باقی ماندہ عناصر کے خاتمے کے لیے جامع کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن کیا گیا۔
بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے مختلف راستوں پر خوارج کا سراغ لگا کر ان کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد مزید دس بھارتی سرپرستی میں سرگرم خوارج مارے گئے۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔ آئی ایس پی آر نے بتایا کہ یہ عناصر علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں اور خطے میں موجود دیگر بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے آپریشن جاری رہے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن "عزمِ استحکام” کے تحت سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسداد دہشت گردی مہم پوری شدت سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
دریں اثنا وزیر اعظم شہباز شریف نے ژوب میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی پر سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی کو سراہا۔ اپنے بیان میں وزیر اعظم نے کہا کہ دس دہشت گردوں کی ہلاکت فورسز کے غیر متزلزل عزم کا ثبوت ہے۔ انہوں نے "عزمِ استحکام” کے تحت دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کو اہم کامیابیاں قرار دیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور حکومت ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔
حالیہ دنوں میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے سیکیورٹی صورتحال پر تشویش بڑھی ہے۔ سیکیورٹی فورسز افغان سرحد سے دراندازی کرنے والے دہشت گرد گروہوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کر رہی ہیں۔
ایک روز قبل خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں علیحدہ علیحدہ آئی بی اوز کے دوران کالعدم فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 34 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔
وفاقی حکومت بین الاقوامی فورمز پر افغانستان میں موجود دہشت گرد محفوظ پناہ گاہوں اور وہاں سے پاکستان کے خلاف حملوں کے معاملے کو مسلسل اٹھاتی رہی ہے، جس کی تصدیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بھی کر چکی ہے۔
بدھ کے روز پنجاب کے ضلع بھکر کے علاقے داجل میں بین الصوبائی چیک پوسٹ پر خودکش حملے میں دو پولیس اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ کے علاقے لاچی میں دہشت گردوں نے پولیس وین پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی سمیت پانچ پولیس اہلکار شہید اور چار زخمی ہو گئے، جبکہ دو زیر حراست افراد بھی جاں بحق ہوئے۔ حملہ اس وقت کیا گیا جب ڈی ایس پی لاچی اسد محمود خان کی قیادت میں پولیس ٹیم ملزمان کو تفتیش کے لیے منتقل کر رہی تھی کہ نامعلوم مسلح افراد نے اچانک اندھا دھند فائرنگ کر دی۔
گزشتہ ہفتے باجوڑ میں چیک پوسٹ پر دہشت گرد حملے کو ناکام بناتے ہوئے سیکیورٹی فورسز نے 12 بھارتی پراکسی دہشت گردوں کو ہلاک کیا تھا جبکہ 11 اہلکار شہید ہوئے تھے۔
علاوہ ازیں بلوچستان کے ضلع پشین میں ایک ہدفی آئی بی او کے دوران بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کر کے ایک بڑے دہشت گرد منصوبے کو ناکام بنایا گیا تھا۔