پیٹرول

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ، حکومت کا ہدفی سبسڈی اور کفایت شعاری اقدامات کا اعلان

Read Time:2 Minute, 42 Second

اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے نئے نرخوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے کر دیا ہے۔ وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 24 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 458 روپے 41 پیسے مقرر ہو گئی ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر اضافہ کر کے اسے 520 روپے 35 پیسے کر دیا گیا ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ وزیرِ پیٹرولیم نے کہا کہ جاری علاقائی جنگ اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث توانائی کے شعبے میں شدید بحران پیدا ہو گیا ہے، جس کے پیش نظر حکومت کو مشکل مگر ذمہ دارانہ فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور ڈیزل کی قیمت 250 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تیل کی سپلائی کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز سے آتا ہے اور موجودہ صورتحال نے عالمی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے، حتیٰ کہ اسٹریٹیجک ذخائر رکھنے والے ممالک نے بھی توانائی ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔

علی پرویز ملک نے مزید کہا کہ حکومت نے کفایت شعاری مہم کے تحت اخراجات میں کمی اور کابینہ اراکین کی تنخواہوں میں کٹوتی جیسے اقدامات کیے تاکہ عوام پر بوجھ کم سے کم ڈالا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد ناگزیر ہے اور پوری قوم کو یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے بروقت فیصلے کرتے ہوئے ایندھن کی فراہمی میں کسی قسم کے خلل کو روکے رکھا۔ تاہم، عالمی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث بلینکٹ سبسڈی کو برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا۔

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اعلان کیا کہ حکومت بلینکٹ سبسڈی کے بجائے ہدفی سبسڈی کی طرف منتقل ہو رہی ہے تاکہ حقیقی مستحقین کو براہِ راست ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں کے لیے ہر ماہ 20 لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی۔

مزید برآں، انٹر سٹی پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی، جبکہ ٹرک اور گڈز ٹرانسپورٹ کے لیے 70 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی فراہم کی جائے گی۔ ریلوے کے لیے بھی حکومتی سبسڈی دی جائے گی تاکہ کرایوں میں اضافہ محدود رکھا جا سکے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت اس امر کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے کہ دستیاب وسائل مؤثر انداز میں مستحق افراد تک پہنچیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایندھن کی بچت اور بجلی کی پیداواری لاگت کم کرنے کے لیے مارکیٹوں کے اوقات کار پر نظرِ ثانی کی جا رہی ہے اور صوبائی حکومتوں سے مشاورت مکمل ہونے کے بعد اس حوالے سے اعلان کیا جائے گا۔

حکومتی حکام کے مطابق موجودہ فیصلے ناگزیر حالات کے تحت کیے گئے ہیں اور حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
آذربائیجان Previous post آذربائیجان اور تاجکستان کے درمیان قونصلر مشاورت کا نیا دور، دوطرفہ تعاون کے فروغ پر غور
شہباز شریف Next post وزیراعظم شہباز شریف نے معاشی استحکام کے لیے کفایت شعاری، عوامی تحفظ اور قومی یکجہتی پر زور دیا