
اسپین نے گولڈن ویزا پروگرام کا باضابطہ خاتمہ کر دیا، 12 سالہ اسکیم اختتام پذیر
میڈرڈ، یورپ ٹوڈے: اسپین نے جمعرات کے روز اپنے گولڈن ویزا پروگرام کا باضابطہ خاتمہ کر دیا، جس کے تحت گزشتہ بارہ برسوں سے غیر ملکی جائیداد کے سرمایہ کاروں کو رہائش کی اجازت دی جاتی رہی۔ اس اسکیم کا آغاز 2013 میں عالمی مالیاتی بحران کے بعد غیر ملکی سرمایہ کو راغب کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس پروگرام کے تحت وہ غیر ملکی افراد جنہوں نے کم از کم 5 لاکھ یورو (تقریباً 5 لاکھ 55 ہزار امریکی ڈالر) مالیت کی جائیداد خریدی، انہیں اسپین میں رہائشی اجازت نامہ دیا گیا۔
اسپین کی حکومت کے مطابق، اس اسکیم کے تحت ہونے والی 90 فیصد جائیداد کی خریداری بارسلونا، میڈرڈ، مالاگا، الیکانتے، ویلنشیا اور بیلیرک جزائر جیسے زیادہ طلب والے علاقوں میں مرکوز رہی، جہاں مقامی باشندوں کے لیے مکانات کی قیمتیں ناقابل برداشت ہو چکی ہیں۔
وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے گزشتہ بہار میں اس اسکیم کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا:
“یہ شہر انتہائی دباؤ کے شکار ہاؤسنگ مارکیٹ کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں روزانہ کام کرنے والے اور باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والے مقامی افراد کے لیے مناسب رہائش حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا:
“ہم تمام ضروری اقدامات کریں گے تاکہ رہائش ہر فرد کا بنیادی حق ہو، نہ کہ صرف منافع بخش کاروبار۔”
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2013 سے 2023 کے دوران اسپین نے جائیداد میں سرمایہ کاری کی بنیاد پر 14,576 گولڈن ویزے جاری کیے۔ اس اسکیم سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے ممالک میں چین، روس، برطانیہ، امریکہ، یوکرین، ایران، وینزویلا اور میکسیکو شامل ہیں۔
یاد رہے کہ 2022 میں یورپی کمیشن نے یورپی یونین کے رکن ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ ایسے پروگرامز کا خاتمہ کریں جو مالی تعاون کے بدلے پاسپورٹ یا رہائش فراہم کرتے ہیں۔
مقامی سطح پر رہائش کی دستیابی اسپین کے اندر ایک اہم سیاسی اور سماجی مسئلہ بن چکی ہے۔ مارچ میں اسپین کے عوامی تحقیقاتی ادارے CIS کے ایک سروے کے مطابق، رہائش کا مسئلہ عوام کے لیے سب سے بڑا خدشہ بن کر سامنے آیا ہے۔