
دومیل پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ ناکام، 5 افراد شہید، متعدد زخمی
بنوں، یورپ ٹوڈے: ڈیرہ اسماعیل خان: خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں واقع دومیل پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنانے کی کوشش میں کیے گئے خودکش حملے میں کم از کم پانچ افراد، جن میں خواتین اور ایک بچہ بھی شامل ہیں، شہید جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ علاقائی پولیس افسر سجاد خان نے واقعے کی تصدیق کی ہے۔
حکام کے مطابق شہداء میں ایک ہی خاندان کے افراد شامل ہیں، جن میں نقیب اللہ، ان کی اہلیہ، بیٹا طفیل سبحان اور بیٹی صدف شامل ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر یاسر آفریدی کے مطابق پولیس کی بروقت کارروائی اور پیشہ ورانہ تیاری کے باعث حملہ آور اپنے ہدف، یعنی پولیس اسٹیشن کی عمارت، کو نقصان پہنچانے میں ناکام رہا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں نے ایک گاڑی میں تقریباً 1000 سے 1500 کلوگرام دھماکہ خیز مواد بھر کر پولیس اسٹیشن کی دیوار سے ٹکرانے کی کوشش کی، تاہم ناکامی پر قریبی شہری علاقے میں دھماکہ کر دیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ مؤثر حفاظتی اقدامات کے باعث پولیس اسٹیشن محفوظ رہا، تاہم دھماکے کے باعث قریبی رہائشی علاقے میں جانی نقصان ہوا۔ ریسکیو ٹیمیں اور مقامی افراد ملبہ ہٹانے اور امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
پولیس کے مطابق حملہ پرانے تحصیل دفتر کی سمت سے آنے والی بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے کیا گیا۔ اسپتال ذرائع نے بتایا کہ زخمیوں میں خواتین، بچے اور ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ واقعے کے بعد پولیس، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
ڈی پی او یاسر آفریدی نے جائے وقوعہ اور اسپتال کا دورہ کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے اور واقعے کی مکمل تحقیقات کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائیاں سکیورٹی اداروں اور عوام کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔
سکیورٹی حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع دیں تاکہ ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گرد عناصر علاقے کے پرامن ماحول کو خراب کرنا چاہتے ہیں، تاہم انہیں ہر صورت ناکام بنایا جائے گا۔ قومی ایکشن پلان کے تحت کارروائیاں دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جاری رہیں گی۔
آر پی او سجاد خان نے اسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی اور کہا کہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا کھلی بزدلی ہے، اور ایسے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے دومیل پولیس اسٹیشن اور متاثرہ گھروں کا بھی دورہ کیا، لواحقین سے اظہارِ تعزیت کیا اور مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔ صدر آصف علی زرداری نے بھی دہشت گردی کے خاتمے کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
قومی اسمبلی میں بھی شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی، جبکہ ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے ایوان کو واقعے سے آگاہ کیا۔ رکن قومی اسمبلی نصیب علی شاہ نے فاتحہ کی قیادت کی۔
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں حالیہ عرصے میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں گزشتہ سال ملک بھر میں رپورٹ ہونے والے 5,397 واقعات میں سے 3,811 اسی صوبے میں پیش آئے، جبکہ بلوچستان میں 1,557 واقعات رپورٹ ہوئے۔ حکام کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جا رہی ہیں تاکہ ملک میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔