
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، یوکرینی صدر سے ملاقات سے قبل مشاورت
واشنگٹن، یورپ ٹوڈے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز کہا کہ انہوں نے یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات سے قبل روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ ایک “اچھی اور نہایت نتیجہ خیز” ٹیلیفونک گفتگو کی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا، “میں نے آج دوپہر ایک بجے یوکرین کے صدر زیلنسکی سے ملاقات سے قبل روس کے صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ ایک اچھی اور انتہائی مفید ٹیلیفونک گفتگو کی ہے۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ زیلنسکی سے ہونے والی ملاقات 1800 گرین وچ معیاری وقت پر ہوگی اور میڈیا کے لیے کھلی ہوگی، تاہم انہوں نے ٹیلیفونک گفتگو کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
صدر ٹرمپ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کی میزبانی فلوریڈا کے پام بیچ میں واقع اپنی رہائش گاہ مار-اے-لاگو میں کریں گے، جہاں روس اور یوکرین کے درمیان تقریباً چار سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی منصوبے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
یوکرینی صدر زیلنسکی ہفتے کے روز ہمسایہ ملک کینیڈا کے دورے کے بعد امریکہ پہنچے۔
ادھر کریملن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق روسی صدر کے معاون یوری اوشاکوف نے بتایا کہ امریکی اور روسی صدور کے درمیان ہونے والی گفتگو ایک گھنٹہ پندرہ منٹ جاری رہی اور یہ رابطہ صدر ٹرمپ کی پہل پر کیا گیا۔ گفتگو میں یوکرینی تنازع کی موجودہ صورتحال اور اس کے ممکنہ حل پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
کریملن میں شائع شدہ بیانات کے مطابق اوشاکوف نے کہا کہ صدر پوٹن نے اس بات پر زور دیا کہ تقریباً چار سال سے جاری جنگ کے حل کے لیے بات چیت کا تسلسل نہایت اہم ہے، جو اگست میں الاسکا سمٹ اور دونوں ممالک کے نمائندوں کے مابین متعدد روابط میں طے پانے والی مفاہمتوں پر مبنی ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ روسی اور امریکی صدور اس نکتے پر بڑی حد تک متفق ہیں کہ یوکرین اور یورپی ممالک کی جانب سے تجویز کردہ عارضی جنگ بندی، چاہے اسے ریفرنڈم کی تیاری یا کسی اور جواز کے تحت پیش کیا جائے، تنازع کو طول دے سکتی ہے اور دوبارہ لڑائی بھڑکنے کا خطرہ پیدا کر سکتی ہے۔
اوشاکوف کے مطابق، دشمنی کے خاتمے کے لیے سب سے پہلے کیف کو ایک جرات مندانہ اور ذمہ دار سیاسی فیصلہ کرنا ہوگا، جو روس-امریکہ چینل کے ذریعے جاری سفارتی کوششوں سے ہم آہنگ ہو۔
انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے جلد از جلد خاتمے کی ضرورت پر زور دیا اور امریکہ کے روس اور یوکرین دونوں کے ساتھ معاشی تعاون کے وسیع امکانات کا بھی ذکر کیا۔
روسی صدر کے معاون نے مزید بتایا کہ صدر پوٹن اور صدر ٹرمپ اس بات پر متفق ہوئے ہیں کہ یوکرین سے متعلق صورتحال کے حل کے لیے دو خصوصی ورکنگ گروپس کے ذریعے کوششیں جاری رکھی جائیں گی، جن میں ایک سیکیورٹی جبکہ دوسرا اقتصادی امور پر توجہ دے گا۔
انہوں نے کہا کہ ان ورکنگ گروپس کے آغاز کی شرائط پر جلد اتفاق کیا جائے گا، غالب امکان ہے کہ یہ عمل جنوری کے اوائل میں مکمل ہوگا۔ دونوں صدور نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ صدر ٹرمپ اور صدر زیلنسکی کے درمیان ملاقات کے بعد دوبارہ رابطہ کیا جائے گا۔