میکرون

فرانسیسی خاتونِ اول بریژیت میکرون کو سائبر ہراسانی کا نشانہ بنانے پر 10 افراد مجرم قرار

پیرس، یورپ ٹوڈے: فرانس کی ایک فوجداری عدالت نے فرانسیسی خاتونِ اول بریژیت میکرون کو آن لائن ہراسانی کا نشانہ بنانے کے الزام میں دس افراد کو مجرم قرار دے دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مجرم قرار دیے گئے افراد میں آٹھ مرد اور دو خواتین شامل ہیں، جن کی عمریں 41 سے 60 سال کے درمیان ہیں۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے بریژیت میکرون کی جنس اور جنسی شناخت سے متعلق بدنیتی پر مبنی اور توہین آمیز تبصرے آن لائن شائع کیے، جن میں یہ جھوٹا دعویٰ بھی شامل تھا کہ وہ مرد کی حیثیت سے پیدا ہوئیں۔

استغاثہ کے مطابق ملزمان نے مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر توہین آمیز اور ہتک آمیز پیغامات کی بڑی تعداد شائع کی۔ عدالت کے فیصلے میں خاص طور پر ان پوسٹس کا حوالہ دیا گیا جن میں صدر ایمانویل میکرون کی اہلیہ کے مرد پیدا ہونے کے الزامات لگائے گئے اور میاں بیوی کے درمیان 24 سال کے عمر کے فرق کو طفل آزاری جیسے سنگین الزامات سے جوڑا گیا۔

عدالت کے مطابق ان میں سے بعض پوسٹس کو دسیوں ہزار مرتبہ دیکھا گیا، جس سے ان الزامات کے وسیع پیمانے پر پھیلاؤ کا اندازہ ہوتا ہے۔ پیرس کی فوجداری عدالت نے تمام دس ملزمان کو مجرم قرار دیا۔

عدالت نے ملزمان کو مختلف سزائیں سنائیں، جن میں سائبر بُلنگ سے متعلق آگاہی تربیت سے لے کر آٹھ ماہ قید کی معطل سزا شامل ہے۔

یہ مقدمہ اس کے بعد سامنے آیا جب 72 سالہ بریژیت میکرون اور صدر ایمانویل میکرون نے گزشتہ موسمِ گرما میں ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ خاتونِ اول ایک حیاتیاتی عورت ہیں۔ بریژیت میکرون اکتوبر میں ہونے والی دو روزہ سماعت کے دوران عدالت میں پیش نہیں ہوئیں۔

اتوار کے روز قومی ٹی وی چینل TF1 سے گفتگو کرتے ہوئے بریژیت میکرون نے کہا کہ انہوں نے یہ قانونی کارروائی آن لائن ہراسانی کے خلاف ایک مثال قائم کرنے کے لیے شروع کی۔

عدالت میں ان کی صاحبزادی ٹفین اوزیر نے گواہی دیتے ہوئے بتایا کہ آن لائن ہراسانی میں شدت آنے کے بعد ان کی والدہ کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی والدہ ان کے بارے میں کہی جانے والی خوفناک باتوں کو نظرانداز نہیں کر سکتیں۔

ٹفین اوزیر کے مطابق اس ہراسانی کے اثرات پورے خاندان پر پڑے، جن میں میکرون خاندان کے پوتے پوتیاں بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب، متعدد ملزمان نے عدالت کو بتایا کہ ان کے تبصرے محض مزاح یا طنز کے طور پر کیے گئے تھے اور انہیں سمجھ نہیں آتا کہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کیوں کی گئی۔

آذربائیجان Previous post صدر الہام علییف کا آذربائیجان کی آرتھوڈوکس مسیحی برادری کو تہنیتی پیغام، مذہبی رواداری کے عزم کا اعادہ
رومانیہ Next post رومانیہ کی ڈاسیا گاڑی یورپ میں دوسری سالانہ سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کار قرار