
ایم اے جناح روڈ پر گل پلازہ میں خوفناک آتشزدگی، 12 گھنٹے بعد بھی قابو نہ پایا جا سکا، 6 افراد جاں بحق
کراچی، یورپ ٹوڈے: کراچی کے مصروف علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی تیسرے درجے کی شدید آگ پر 12 گھنٹے گزرنے کے باوجود قابو نہیں پایا جا سکا، جبکہ عمارت کا ایک اور حصہ صبح سویرے منہدم ہو گیا۔ آتشزدگی کے نتیجے میں ایک فائر فائٹر سمیت 6 افراد جاں بحق ہو گئے، جبکہ دھویں کے باعث متعدد افراد کی حالت غیر ہو گئی جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تین منزلہ شاپنگ پلازہ میں ایک ہزار سے زائد دکانیں قائم ہیں۔ آگ کے باعث گراؤنڈ اور میزنائن فلور مکمل طور پر جل چکے ہیں، جبکہ بالائی دو منزلوں پر تاحال آگ بھڑک رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ شاپنگ پلازہ گراؤنڈ، میزنائن اور دو بالائی فلورز پر مشتمل ہے۔
فائر بریگیڈ حکام کے مطابق شہر بھر کی تمام فائر ٹینڈرز آگ بجھانے کی کارروائی میں مصروف ہیں، جبکہ ریسکیو اور فائر فائٹنگ آپریشن میں پاک بحریہ کی اسنارکلز اور دو فائر ٹینڈرز بھی شامل کر لیے گئے ہیں۔ چیف فائر آفیسر نے بتایا کہ آگ ہفتے کی رات تقریباً سوا دس بجے لگی، جسے تیسرے درجے کی آگ قرار دے کر شہر بھر سے فائر ٹینڈرز طلب کیے گئے۔ آگ کے باعث عمارت کے ایک حصے کا پلر گر گیا ہے اور پوری عمارت میں دراڑیں پڑ چکی ہیں۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ شاپنگ پلازہ میں متعدد افراد کے پھنسے ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ سینئر فائر آفیسر عارف منصوری کے مطابق شدید تپش کے باعث فائر فائٹرز کو عمارت کے اندر داخل ہونے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
چیف فائر آفیسر نے مزید بتایا کہ عمارت میں زوردار دھماکا ہوا جس کے بعد آگ مزید پھیل گئی، جبکہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکا گیس لیکج کے باعث ہوا۔ جاں بحق افراد میں سے چار کی شناخت فراز، کاشف، عامر اور شہروز کے نام سے ہوئی ہے۔
ریسکیو آپریشن کے دوران فائر بریگیڈ کی سیڑھیاں ٹوٹنے سے دو افراد گر کر زخمی بھی ہو گئے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق شاپنگ پلازہ میں دکانوں کی مجموعی تعداد تقریباً 1200 ہے۔
آتشزدگی کے باعث اطراف کے علاقوں میں ٹریفک شدید متاثر ہوئی ہے، جبکہ تبت چوک سے گارڈن چوک ایم اے جناح روڈ اور انکل سریا چوک سے سینٹرل پلازہ تک ماسٹن روڈ کو بند کر دیا گیا ہے۔
ریسکیو اور فائر فائٹنگ آپریشن تاحال جاری ہے۔