کراچی

گل پلازا کی آگ 33 گھنٹے بعد مکمل طور پر بجھا دی گئی، جاں بحق افراد کی تعداد 14 ہوگئی

کراچی، یورپ ٹوڈے: کراچی کے علاقے صدر میں واقع گل پلازا میں لگنے والی آگ 33 گھنٹے گزرنے کے بعد مکمل طور پر بجھا دی گئی، تاہم کولنگ کا عمل تاحال جاری ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق جلی ہوئی عمارت سے مزید 4 افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں، جس کے بعد آگ سے جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 14 ہو گئی ہے، جبکہ 22 زخمی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

چیف فائر آفیسر نے بتایا کہ پلازا میں کولنگ کا عمل جاری ہے اور ریسکیو کارروائی کے دوران کٹر کی مدد سے کھڑکیوں کو کاٹا جا رہا ہے جبکہ ہتھوڑوں کے ذریعے دیواریں بھی گرائی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تیسری منزل پر کسی شخص کے پھنسے ہونے کے امکان کے پیش نظر اتوار کی رات فائر فائٹرز عمارت کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔

ریسکیو حکام کے مطابق جلی ہوئی دکانوں میں محدود سرچ آپریشن کیا گیا، جس کے دوران ریسکیو ورکرز نے صدائیں لگا کر زندگی کی تلاش کی کوششیں کیں اور جائے حادثہ پر تھرمل کیمرے نصب کیے گئے۔ سرچ آپریشن کے دوران ایک بچے سمیت تین افراد کے انسانی اعضا ملے، جنہیں سول اسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ سے موبائل نمبرز حاصل کر لیے گئے ہیں، جبکہ 20 سے زائد افراد کے موبائل فونز کی آخری لوکیشن گل پلازا کی سامنے آئی ہے۔

ادھر گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے گل پلازا کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ 70 سے زائد افراد کا لاپتہ ہونا ایک بڑا المیہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی نہیں چاہتا کہ آگ لگے یا کسی کا کاروبار تباہ ہو، تاہم آگ لگنے کے عوامل کا تعین کرنا ضروری ہے۔ گورنر سندھ نے متاثرین کے ساتھ نقصان کے ازالے تک کھڑے رہنے اور معاوضے کے لیے سندھ اور وفاقی حکومت سے بات کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بھی گل پلازا کا دوبارہ دورہ کیا اور امدادی کام تیز کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے بتایا کہ 65 کے قریب افراد تاحال لاپتہ ہیں اور رش کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، تاہم عمارت کے پچھلے حصے سے بھی ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آگ پر مکمل کنٹرول اور کولنگ کا عمل کب مکمل ہوگا، اس بارے میں کوئی حتمی وقت نہیں دیا جا سکتا۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہفتے کی رات 10 بج کر 27 منٹ پر آگ لگنے کی اطلاع موصول ہوئی اور 15 منٹ کے اندر فائر بریگیڈ موقع پر پہنچ گئی، اس لیے فائر بریگیڈ کے تاخیر سے پہنچنے کا تاثر درست نہیں۔ گزشتہ روز ان کی آمد پر موقع پر موجود افراد نے احتجاج بھی کیا، جس پر میئر کراچی نے کہا کہ عوام جذباتی ہیں اور وہ ان کے دکھ کو سمجھتے ہیں۔

دوسری جانب صدر الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن رضوان عرفان نے سانحہ گل پلازا پر دکانداروں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے آج سوگ میں مارکیٹیں بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گل پلازا میں آگ سے اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے جبکہ دکاندار اور ان کے ورکر تاحال عمارت میں موجود ہیں۔

راولپنڈی Previous post حلقۂ اربابِ ذوق راولپنڈی کے زیرِ اہتمام ڈاکٹر رشید امجد کی یاد میں خصوصی ادبی شام منعقد
پرتگال Next post پرتگال میں صدارتی انتخابات کے لیے ووٹنگ مکمل