امن فروش کی کہانی
2060 کی ایک خاموش رات تھی۔ شہر کے باہر بظاہر سکون چھایا ہوا تھا، مگر تاریخ کی سرگوشیاں اب بھی فضا میں گردش کر رہی تھیں۔ ایک دادی اپنی ننھی پوتی کے بستر کے پاس بیٹھی تھیں۔ بچی کو کہانیاں سننے کا بڑا شوق تھا، مگر وہ عام پریوں کی کہانیاں نہیں ہوتیں تھیں۔ وہ ایسی داستانیں ہوتیں جو ماضی کے تجربات سے جنم لیتی تھیں—ایسی کہانیاں جو صرف دل بہلانے کے لیے نہیں بلکہ ضمیر کو جگانے کے لیے سنائی جاتی ہیں۔ کمرے کی مدھم روشنی میں دیواروں پر سائے ٹھہرے ہوئے تھے اور دادی نے آہستہ سے کہنا شروع کیا۔
برسوں پرانی بات ہے،” وہ دھیرے سے بولیں، “ایک ایسا شخص تھا جو ایک طاقتور ملک کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے تھا۔ وہ خطابت میں ماہر، انداز میں ڈرامائی اور تاثر کی طاقت سے بخوبی واقف تھا۔ اس کی ایک خاص عادت تھی کہ وہ خود کو کبھی ایک شناخت تک محدود نہیں رکھتا تھا۔ وہ حالات کے مطابق مختلف نام، مختلف القابات اور مختلف چہرے اختیار کر لیتا۔ کہیں اسے امن کا پیامبر کہا جاتا، کہیں عالمی نگہبان۔ اس کا اصل نام تو وقت کی گرد میں گم ہو گیا، مگر اس کا کردار تاریخ میں محفوظ رہ گیا”۔
ابتدائی برسوں میں اس کی شہرت بڑی مہارت سے تراشی گئی۔ جہاں کہیں کوئی تنازعہ جنم لیتا، وہ فوراً نمودار ہو جاتا—کبھی عالمی کانفرنسوں میں، کبھی سربراہی اجلاسوں میں، کبھی ہنگامی دوروں پر۔ وہ بڑے فخر سے اعلان کرتا کہ اگر وہ مداخلت نہ کرتا تو یہ تنازعات بڑی جنگوں میں بدل جاتے۔ وہ مجمعوں کے سامنے کھڑا ہو کر کہتا کہ اس کی کوششوں نے دنیا کو تباہی سے بچا لیا ہے۔ میزبان اس کا گرمجوشی سے استقبال کرتے، میڈیا اس کی تعریفوں کے پل باندھتا اور مداح اس کی جرات کو سراہتے کہ اس نے “جنگوں کو شروع ہونے سے پہلے روک دیا”۔
کچھ عرصہ تک دنیا نے اس کی باتوں پر یقین بھی کر لیا۔
وہ اکثر مصالحت اور مفاہمت کی باتیں کرتا تھا، دادی نے کہا، “اور قوانین اور معاہدوں کا ذکر اس انداز میں کرتا جیسے وہ کوئی مقدس عہد ہوں۔ وہ دوسروں کو لاپروائی سے بچنے کی نصیحت کرتا اور تحمل و برداشت کا درس دیتا۔ لوگ اس پر اس لیے بھی یقین کرتے تھے کہ انہیں امن کی امید تھی، اور اس لیے بھی کہ جب اعتماد کو مہارت سے پیش کیا جائے تو وہ سچائی محسوس ہونے لگتا ہے”۔
مگر اس کی شخصیت کی جڑیں اصولوں میں پیوست نہیں تھیں۔
آہستہ آہستہ، تقریباً غیر محسوس انداز میں، اس کا رویہ بدلنے لگا۔ وہی شخص جو کبھی مداخلت کی مذمت کرتا تھا، اب خود مداخلت کے جواز تلاش کرنے لگا۔ اس کی سوچ، جو پہلے سفارت کاری کے نرم الفاظ میں لپٹی رہتی تھی، اچانک یوں بدلی جیسے کسی نے اسے پورے ایک سو اسی درجے گھما دیا ہو۔ جو کبھی تحمل تھا وہ بے صبری بن گیا، جو کبھی ثالثی تھی وہ بالادستی میں ڈھل گئی۔
“اسے ایک عادت پڑ گئی تھی،” دادی نے کہا، “کہ جہاں نہ اسے بلایا جاتا اور نہ اس کی ضرورت ہوتی، وہاں بھی وہ خود کو بیچ میں ڈال دیتا تھا۔”
ہر دن اس کا ایک نیا موقف ہوتا۔ صبح وہ مذاکرات کی تعریف کرتا، شام ہوتے ہوتے اسے کمزوری قرار دے دیتا۔ ایک دن معاہدے مقدس ہوتے، اگلے دن وہ انہیں فرسودہ کاغذ کہہ دیتا۔ اس کے الفاظ اور اس کے اعمال میں کوئی ربط باقی نہ رہا۔ اس کے اتحادی حیران تھے کہ اس کی بات کا کیا مطلب لیا جائے، دشمن اس سے خوف زدہ تھے اور چھوٹے ممالک بے چینی میں مبتلا تھے کہ نہ جانے کل اس کا کون سا چہرہ سامنے آئے گا۔
کئی مبصرین کو اس کا طرزِ عمل معاشرے کے ایک مانوس کردار کی یاد دلانے لگا—گویا محلے کی وہ مشہور “ماسی” جو ہر گھر کے جھگڑے میں، ہر گلی کے تنازعے میں اور ہر ذاتی معاملے میں مداخلت ضروری سمجھتی ہے۔ بظاہر فکر مندی کا تاثر دینے والی یہ مداخلت دراصل کنٹرول کی خواہش تھی۔ جو پہلے مدد معلوم ہوتی تھی، وہ رفتہ رفتہ دخل اندازی بن گئی۔
“وہ ہر جگہ مداخلت کرتا تھا،” دادی نے آہستہ سے کہا، “مسائل حل کرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنی موجودگی ثابت کرنے کے لیے۔”
جیسے جیسے دنیا کا ماحول تاریک ہوتا گیا، اس کے رویے میں بھی سختی بڑھتی گئی۔ اقتدار کے ایوانوں میں یہ خیال زور پکڑنے لگا کہ طاقت ہی حق ہے—اور اس نے اس سوچ کو خوش دلی سے اپنا لیا۔ اس کے نزدیک قانون تب تک قابلِ احترام تھا جب تک وہ طاقت کے مفاد میں ہو۔ معاہدے اس کے لیے وعدے نہیں بلکہ اوزار تھے۔ اخلاقیات کو وہ روزانہ کی ضرورت کے مطابق ڈھال لیتا۔
پھر ایک ایسی رات آئی جس نے باقی تمام پردے بھی چاک کر دیے۔
تاریکی کی اوٹ میں اس نے ایک ایسا حکم جاری کیا جس نے دنیا کو چونکا دیا۔ اس کے مسلح افراد نے ایک دوسرے ملک میں داخل ہو کر اس کے حکمرانوں کو ان کے اپنے گھر سے اٹھا لیا—نہ کوئی مقدمہ، نہ کوئی قانونی طریقہ، نہ بین الاقوامی اجازت۔ جب دنیا بھر میں اس پر حیرت اور احتجاج ہوا تو وہ ذرا بھی پریشان نہ ہوا۔ اس نے ایک نیا لقب اختیار کیا اور اس کارروائی کو عالمی استحکام کے لیے ضروری قرار دے دیا۔
“وہ یوں بول رہا تھا،” دادی نے کہا، “گویا طاقت نے قانون کی جگہ لے لی ہو۔”
کمرے کی فضا بوجھل ہو گئی۔
اور وہ یہیں نہیں رکا،” دادی نے بات جاری رکھی۔ “جب ایک بار وہ اس حد کو عبور کر گیا تو پھر کئی اور لوگ بھی غائب ہونے لگے۔ اس نے دوسرے ملکوں کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں اور جنگ کو گویا شطرنج کی بساط سمجھنے لگا۔ اب اسے کسی اصول کی پروا نہ تھی—صرف نتائج اہم تھے۔ معاہدے کاغذ کے ٹکڑے بن گئے اور قانون دوسروں کے لیے رہ گیا۔
بچی نے معصومیت سے پوچھا،
“کیا لوگوں نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی؟”
دادی نے پیار سے اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔
کچھ لوگوں نے کوشش کی تھی،” انہوں نے جواب دیا، “مگر بہت سے لوگ اس کی تعریف کرتے رہے۔ انہوں نے اسے طاقتور کہا۔ انہوں نے زور کو جرات سمجھ لیا اور جلد بازی کو دانائی۔ اسی لیے خوف پھیلتا گیا، تنازعات بڑھتے گئے اور دنیا نے اس کی قیمت برسوں تک ادا کی۔
اس کے بعد اس کی تبدیلیاں اور تیز ہو گئیں۔ اس کے مؤقف روز بدلتے—کبھی گھنٹوں میں۔ وہ امن کی بات کرتا مگر جنگ کی تیاری کرتا۔ اخلاقیات کا ذکر کرتا مگر خود ان کی پامالی کرتا۔ پھر اس کی زبان ایک قدیم ملک کی طرف مڑی—پہلے احتیاط سے، پھر سختی سے، اور آخرکار کھلی دھمکیوں کے ساتھ۔ اور ایک دن وہ ان پر چڑھ دوڑا مگر انہوں نے بھی ناکوں چنے چبوائے۔
اب کوئی معاہدہ اسے روک نہیں سکتا تھا، کوئی ادارہ اس کی نظر میں قابلِ احترام نہ رہا تھا۔ ناقدین کا مذاق اڑایا جاتا، اتحادی پریشان رہتے اور حامی اس کے فیصلوں کو قیادت سمجھ کر تالیاں بجاتے۔ حقیقت میں وہ غیر یقینی کو اصول بنا چکا تھا۔
“وہ حکومت تو کر رہا تھا،” دادی نے کہا، “مگر اعتماد کے بغیر۔ اور جس رہنما پر اعتماد نہ ہو وہ کھلے دشمن سے بھی زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے۔”
بچی نے اپنی مدادی کی طرف دیکھا اور آہستہ سے پوچھا،
“کیا وہ کامیاب ہوا؟”
دادی نے سر ہلایا۔
نہیں، بیٹی۔ اصولوں کے بغیر حاصل کی گئی طاقت کبھی کامیاب نہیں ہوتی۔ اس کی حکمرانی نے دنیا کو زیادہ غیر مستحکم کر دیا، اتحاد کمزور ہو گئے اور تنازعات مزید گہرے ہو گئے۔ جب وہ منظر سے ہٹا بھی تو اس کے چھوڑے ہوئے زخموں کو بھرنے میں برسوں، بلکہ بعض جگہ دہائیوں لگ گئیں۔
وہ اپنی پوتی کے قریب جھکیں اور دھیرے سے بولیں:
اسی لیے میں تمہیں یہ کہانی سناتی ہوں۔ یاد رکھنا، وہ رہنما جس کے اصول ہر روز بدلتے ہوں اس پر کبھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ جب مداخلت عادت بن جائے تو امن صرف ایک تماشہ رہ جاتا ہے۔ اور جب طاقت کو انصاف پر فوقیت دے دی جائے تو دنیا اپنی اخلاقی سمت کھو دیتی ہے۔
انہوں نے اپنی پوتی کی پیشانی کو بوسہ دیا اور چراغ گل کر دیا۔
جب بچی نیند کی آغوش میں چلی گئی تو اس خاموش کمرے میں ایک سبق گونجتا رہا—نسل در نسل منتقل ہونے والا ایک پیغام
کہ امن نعروں سے نہیں بلکہ ضبط و تحمل سے ثابت ہوتا ہے؛
کہ قانون کے بغیر طاقت تباہی کو جنم دیتی ہے؛
اور تاریخ کبھی ان لوگوں کو نہیں بھولتی جو امن کا نقاب پہن کر طاقت کی زبان بولتے رہے۔