ریاستوں

آستانہ میں ترک ریاستوں کے تجارتی ایوانوں کی یونین کا تیسرا جنرل اجلاس منعقد

آستانہ، یورپ ٹوڈے: ترک ریاستوں کے تجارتی ایوانوں کی یونین (Union of Turkic Chambers of Commerce and Industry) کا تیسرا جنرل اسمبلی اجلاس قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں منعقد ہوا، جس میں تنظیمِ ترک ریاستیں (OTS) سے وابستہ سرکاری اداروں، کاروباری برادری اور ترقیاتی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ قازقستان کی وزارتِ قومی معیشت نے اس بات کی تصدیق کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قازقستان کے نائب وزیرِ قومی معیشت اسان داربایوف نے تنظیمِ ترک ریاستیں کے رکن ممالک کے ساتھ قازقستان کے تعاون پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ قازقستان، او ٹی ایس کو معاشی انضمام کو گہرا کرنے، سرمایہ کاری کے فروغ، صنعتی تعاون اور لاجسٹک راہداریوں کی ترقی کے لیے ایک اسٹریٹجک پلیٹ فارم سمجھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ترک خطہ نمایاں معاشی صلاحیت رکھتا ہے اور مشترکہ ذمہ داری ہے کہ پائیدار ویلیو ایڈڈ چینز اور کاروبار کے لیے نئے ترقیاتی مواقع پیدا کرکے اس صلاحیت کو مکمل طور پر بروئے کار لایا جائے۔ ان کے مطابق باہمی تجارت کی بڑھتی ہوئی رفتار اقتصادی تعاون کی پائیداری اور افادیت کا ثبوت ہے۔

اسان داربایوف نے انکشاف کیا کہ 2025 کے پہلے 10 ماہ کے دوران تنظیمِ ترک ریاستیں کے رکن ممالک کے ساتھ قازقستان کا تجارتی حجم 10.4 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جو 2024 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 10.9 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس دوران قازقستان کی برآمدات میں 17.1 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 7.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ درآمدات 2.8 ارب امریکی ڈالر رہیں۔ یوں تجارتی سرپلس 4.8 ارب امریکی ڈالر رہا۔

برآمدات میں اضافے کی بڑی وجوہات میں تانبے اور تانبے کے کیتھوڈز، خام تیل، گندم، پیٹرولیم مصنوعات، سورج مکھی کا تیل، دھات سازی اور زرعی صنعتی مصنوعات کی ترسیل میں اضافہ شامل ہے۔ یہ رجحان ایک جانب قازقستان کے خام مال پر انحصار کو ظاہر کرتا ہے، تو دوسری جانب ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی جانب بتدریج پیش رفت کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

نائب وزیر نے قازقستان کی سرمایہ کاری کشش کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی بینک کی ڈوئنگ بزنس اور بزنس ریڈی 2025 جیسے بین الاقوامی اشاریوں میں قازقستان کی پوزیشن مضبوط ہے۔ ان کے مطابق حکومت کا ہدف ہے کہ 2029 تک کم از کم 150 ارب امریکی ڈالر کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کی جائے اور فکسڈ کیپیٹل میں سرمایہ کاری کا حصہ جی ڈی پی کے 23 فیصد تک بڑھایا جائے۔ اسی مقصد کے لیے 2030 تک کی نئی سرمایہ کاری پالیسی متعارف کرائی گئی ہے، جس کا فوکس مسابقتی اور زیادہ ویلیو ایڈڈ صنعتوں پر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قازقستان کاروباری ماحول کی بہتری، تجارتی رکاوٹوں میں کمی اور ٹرانسپورٹ و لاجسٹکس رابطوں کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ترک انویسٹمنٹ فنڈ، ڈیجیٹل اور تجارتی پلیٹ فارمز کے آغاز کی بھی حمایت کی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ ترک ریاستوں کے تجارتی ایوانوں کی یونین 2023 میں قائم کی گئی تھی، جس میں کرغزستان، آذربائیجان، قازقستان، ترکی اور ازبکستان شامل ہیں، جبکہ ہنگری اور ترکمانستان مبصر ممالک ہیں۔ 2025 میں یونین کی صدارت آذربائیجان کے پاس رہی۔

ادھر گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ترکی اور ترک ریاستوں کے درمیان مجموعی تجارتی حجم 62.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جو خطے میں بڑھتے ہوئے معاشی روابط کی عکاسی کرتا ہے۔

ایران Previous post بھارت خطے میں امن کو سبوتاژ کر رہا ہے، اسلاموفوبیا اور دہشت گردی برآمد کرنے کا ذمہ دار ہے
امارات Next post متحدہ عرب امارات نے انتہاپسندی اور دہشت گردی کے انسداد کے لیے خصوصی ایلچی مقرر کر دیا