
بروقت فیصلوں سے تیل کے ذخائر محفوظ بنائے، عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے سے گریز کیا گیا، عطاء اللہ تارڑ
لاہور، یورپ ٹوڈے: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بروقت فیصلے کرتے ہوئے ملک میں تیل کے وافر ذخائر کو یقینی بنایا۔
ہفتہ کے روز یہاں وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزارتِ پیٹرولیم اور علی پرویز ملک کی قیادت میں ٹیم نے بھرپور محنت کرتے ہوئے ملک کو تیل کے ممکنہ بحران سے بچایا۔
انہوں نے کہا کہ خطے کے کئی ممالک ایندھن کی راشن بندی پر عمل پیرا ہیں، تاہم اللہ کے فضل سے وزیراعظم نے ایک کمیٹی تشکیل دے کر روزانہ جائزہ اجلاس منعقد کیے، جس کے نتیجے میں ملک میں مناسب تیل کے ذخائر برقرار رکھے گئے جبکہ مستقبل کے لیے تیل کی کھیپوں کا بھی بندوبست کیا جا رہا ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ تیل کی قلت نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وسائل کا ضیاع کیا جائے، کیونکہ یہ وسائل انتہائی مہنگے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ خلیجی ممالک میں تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 158 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے جس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تیل کی قیمتوں کا تعین عالمی منڈی کے مطابق ہوتا ہے، تاہم حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں ابتدائی 55 روپے اضافے کے بعد عوام پر مزید بوجھ ڈالنے سے گریز کیا اور کفایت شعاری اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت سادگی اور کفایت شعاری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور تمام وزارتیں اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور ایندھن کے بچاؤ کو یقینی بنائیں، کارپولنگ کو فروغ دیں اور کم ایندھن خرچ کرنے والی گاڑیوں کا استعمال کریں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے اور حکومتی اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے پیٹرول کی قیمت میں 50 روپے اور ڈیزل میں 74 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز تھی، تاہم وزیراعظم نے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے 24 ارب روپے کی بچت کی اور عوام کو اضافی بوجھ سے بچایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ رواں ہفتے عالمی قیمتوں میں مزید اضافے کے باعث پیٹرول میں 77 روپے اور ڈیزل میں 176 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی گئی تھی، تاہم گزشتہ دو ہفتوں میں وفاقی حکومت نے 69 ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ایک ایسا نظام زیر غور ہے جس کے تحت کم آمدنی والے طبقات کو زیادہ ریلیف دیا جائے گا جبکہ استطاعت رکھنے والے افراد نسبتاً زیادہ بوجھ برداشت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تیل درآمد کرتا ہے، اس لیے زرمبادلہ کے تحفظ کے لیے ایندھن کا مؤثر استعمال ناگزیر ہے اور پوری قوم کو کفایت شعاری اختیار کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں عالمی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے، لہٰذا پیشگی منصوبہ بندی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود وزیراعظم نے عیدالفطر کے موقع پر عوام پر بوجھ منتقل نہیں کیا اور حکومت، نائب وزیراعظم اور عسکری قیادت عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔
اس موقع پر وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ خطہ اس وقت تنازعات کی لپیٹ میں ہے اور تین ہفتے قبل خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل تھی جو بڑھ کر 170 ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ جمعہ کو یہ 160 ڈالر فی بیرل رہی۔
انہوں نے کہا کہ چند ہفتوں میں تیل کی قیمتیں دو سے تین گنا تک بڑھ چکی ہیں جبکہ ڈیزل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات کے پیش نظر حکومت نے محدود حد تک قیمتوں میں اضافہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ ایندھن کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ریفائنریوں کو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ مہنگا ایندھن خریدنے میں ہچکچاہٹ نہ کریں تاکہ قلت پیدا نہ ہو۔ حکومت کی اولین ترجیح ایندھن کی دستیابی ہے جبکہ کفایت شعاری اقدامات کے تحت 27 ارب روپے ایک خصوصی فنڈ کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عیدالفطر کے موقع پر عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کے لیے وزیراعظم نے فیصلہ کیا کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ حکومت خود برداشت کرے گی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ عوام ذمہ دارانہ طرزِ عمل اپنائیں اور ایندھن کے غیر ضروری استعمال سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی اور مزید وسائل کے لیے صوبائی حکومتوں سے بھی مشاورت جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے سعودی حکومت سے مذاکرات کے بعد پاکستان کے لیے خام تیل کی فراہمی یقینی بنائی، جبکہ سعودی عرب بحیرہ احمر کے راستے اور متحدہ عرب امارات فجیرہ سے تیل کی مسلسل سپلائی فراہم کر رہے ہیں۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان اپنی سفارتی صلاحیت اور نظم و ضبط کے ذریعے اس مشکل مرحلے پر قابو پا لے گا۔