
برطانوی وزیرِاعظم سٹارمر کا دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافے کا اعلان
لندن، یورپ ٹوڈے: برطانوی وزیرِاعظم کیر سٹارمر نے منگل کے روز اعلان کیا کہ ملک کا دفاعی بجٹ 2027 تک مجموعی معیشت کے 2.5 فیصد تک بڑھایا جائے گا، جبکہ آئندہ پارلیمانی دور میں اسے 3 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سٹارمر جمعرات کو واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے یوکرین کے مسئلے پر اہم مذاکرات کرنے والے ہیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ اس اضافے کے لیے بیرونِ ملک ترقیاتی امداد کو 0.5 فیصد سے کم کرکے 0.3 فیصد کیا جائے گا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے نیٹو اتحادی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے دفاعی اخراجات کو مجموعی معیشت کے 5 فیصد تک بڑھائیں۔
برطانیہ نے 2023-24 میں اپنی مجموعی ملکی پیداوار (GDP) کا 2.3 فیصد دفاع پر خرچ کیا تھا۔ سٹارمر کی لیبر حکومت نے پہلے ہی دفاعی اخراجات 2.5 فیصد تک بڑھانے کا عزم ظاہر کیا تھا، لیکن اس کا کوئی حتمی وقت مقرر نہیں کیا گیا تھا۔
اپنے خطاب میں سٹارمر نے کہا کہ حکومت کو کچھ “مشکل فیصلے” کرنے ہوں گے، مگر یہ سرد جنگ کے بعد دفاعی اخراجات میں سب سے بڑا مستقل اضافہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اگلی پارلیمنٹ میں دفاعی بجٹ کو 3 فیصد تک لے جانے کے لیے واضح حکمتِ عملی طے کرے گی۔
صدر ٹرمپ نے یورپی ممالک سے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کریں۔
سٹارمر نے کہا، “جنگ کے طریقے نمایاں طور پر تبدیل ہو چکے ہیں، جیسا کہ یوکرین کے میدانِ جنگ سے واضح ہے، لہٰذا ہمیں اپنی صلاحیتوں کو جدید بنانے اور اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔ اس سرمایہ کاری کے ذریعے برطانیہ نیٹو میں اپنی قیادت کے کردار کو مزید مضبوط کرے گا اور براعظم کے اجتماعی دفاع میں اہم کردار ادا کرے گا، جسے ہمیں خوش دلی سے قبول کرنا چاہیے۔”