انڈونیشیا

انڈونیشیا میں سیلاب و لینڈ سلائیڈنگ کے بعد جامعات کی سرگرمیاں بحال، متاثرہ طلبہ کے لیے خصوصی اقدامات

جکارتہ،یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کی وزارتِ اعلیٰ تعلیم نے اعلان کیا ہے کہ سماٹرا میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ علاقوں کی بیشتر جامعات نے معمول کی تعلیمی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ یہ قدرتی آفات 2025 کے اواخر میں پیش آئیں جن کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اور ہزاروں اسکولوں و گھروں کو نقصان پہنچا۔

ڈائریکٹر جنرل برائے سائنس و ٹیکنالوجی احمد نجیب برہانی نے بدھ کے روز جکارتہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر جامعات براہِ راست متاثرہ علاقوں میں واقع نہیں تھیں، جس کے باعث تدریسی سرگرمیاں جاری رکھنا ممکن رہا۔

انہوں نے بتایا کہ متاثرہ طلبہ اور ان کے خاندانوں کو خصوصی معاونت فراہم کی جا رہی ہے، جس میں ٹیوشن فیس میں سہولت، مالی امداد اور تعلیمی تسلسل کو یقینی بنانا شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جامعات نہ صرف ہنگامی صورتحال میں بلکہ بحالی اور آئندہ ممکنہ آفات کی روک تھام کے مراحل میں بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔

وزارت نے آچے، شمالی سماٹرا اور مغربی سماٹرا کی درجنوں جامعات کے ساتھ مل کر امدادی سرگرمیوں، سروس مراکز کے قیام اور آفات سے متعلق تحقیقی پروگراموں کے فروغ کے لیے تعاون کیا ہے، تاکہ طویل المدتی بحالی اور تخفیفِ خطرات کی حکمتِ عملی کو تقویت دی جا سکے۔

دسمبر 2025 کے اختتام تک 28 جامعات کو کمانڈ پوسٹس کا درجہ دیا گیا جبکہ 61 دیگر ادارے معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق 68 سروس مراکز قائم کیے گئے ہیں جن میں نفسیاتی معاونت اور ہنگامی تعلیمی سہولیات بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 2,260 ڈاکٹرز، 1,267 طبی عملہ اور 219 رضاکار تعینات کیے گئے ہیں۔

احمد نجیب برہانی نے کہا کہ طلبہ کے لیے مالی امداد اور آفات سے متعلق تحقیق کو مضبوط بنانا اعلیٰ تعلیمی نظام میں مزاحمت اور پائیداری پیدا کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔

نومبر 2025 میں شدید بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے آچے، شمالی سماٹرا اور مغربی سماٹرا کے تین صوبوں کو بری طرح متاثر کیا۔ قومی ادارہ برائے تخفیفِ آفات (BNPB) کے مطابق 25 فروری تک ان آفات کے نتیجے میں 1,207 افراد جاں بحق، 4,800 سے زائد تعلیمی ادارے متاثر اور تقریباً تین لاکھ مکانات تباہ ہو چکے ہیں۔

شہباز شریف Previous post دوحہ میں وزیرِاعظم شہباز شریف اور قطری ہم منصب کی ملاقات، دوطرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق
علیئیوا Next post گوبا کا دورہ: لیلیٰ علیئیوا اور علینہ علیئیوا کی بورڈنگ اسکول اور اسٹیم سینٹر میں شرکت