ہو چی منہ سٹی

قمری نئے سال سے قبل ہو چی منہ سٹی کی شہری تزئین و آرائش، خالی اراضی کو سرسبز عوامی مقامات میں تبدیل

ہو چی منہ سٹی،یورپ ٹوڈے: قمری نئے سال (ٹیٹ) کی آمد کے موقع پر ویتنام کے سب سے بڑے شہرہو چی منہ سٹی میں شہری تجدید اور تزئین و آرائش کے متعدد منصوبوں نے شہر کا نقشہ بدل دیا ہے، جہاں طویل عرصے سے خالی اور غیر استعمال شدہ اراضی کو سرسبز باغات، چھوٹے پارکوں اور عوامی مقامات میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

شہر کی پارٹی کمیٹی کی جانب سے شہری بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور تکمیل سے متعلق ہدایات پر عمل کرتے ہوئے انتظامیہ نے کئی منصوبوں پر تیز رفتار کام کیا تاکہ انہیں 2026 کے قمری نئے سال سے قبل عوام کے لیے کھولا جا سکے۔ ان اقدامات کا مقصد شہر کی شناخت برقرار رکھتے ہوئے اسے ایک جدید اور مہذب میٹروپولیٹن شہر کے طور پر پیش کرنا ہے۔

نمایاں منصوبوں میں ژوان ہوآ وارڈ کی وو وان تَن اسٹریٹ نمبر 8 کا مقام شامل ہے، جہاں پہلے فان ڈِنہ فُنگ اِنڈور اسٹیڈیم واقع تھا۔ تقریباً ایک ماہ قبل تک یہ جگہ خالی پڑی تھی، جسے عارضی باڑ اور جنگلی گھاس نے ڈھانپ رکھا تھا۔ شہری قیادت کی ہدایات پر میونسپل پیپلز کمیٹی نے صرف 20 روز میں باڑ ہٹا کر اس مقام کو خوبصورت عوامی پارک میں تبدیل کر دیا۔

اب یہاں رنگا رنگ پھولوں کی کیاریاں، سرسبز درختوں کی قطاریں اور ہموار پیدل راستے قائم کیے گئے ہیں، جس سے ایک ویران مقام کو جاذبِ نظر عوامی مقام میں بدل دیا گیا ہے۔

فاط دات رئیل اسٹیٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے جنرل ڈائریکٹر بُوئی کوانگ انہ وو کے مطابق یہ مقام اپنی مرکزی حیثیت اور تاریخی اہمیت کے باعث خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ منصوبہ تیز ترین رفتار سے مکمل کیا گیا اور مقررہ مدت سے تقریباً دو ہفتے قبل عوام کے حوالے کر دیا گیا تاکہ لوگ ٹیٹ کے موقع پر اس سے مستفید ہو سکیں۔

اس کے علاوہ شہر کی معروف علامتی جگہوں کی بھی تزئین کی گئی ہے، جن میں Bến Thành Market اور Turtle Lake کے اطراف کے علاقے شامل ہیں۔ ان منصوبوں میں مقامی کاروباری اداروں نے تعاون فراہم کیا، جسے سماجی ذمہ داری کا حصہ قرار دیا گیا۔

نچلی سطح پر بھی مختلف وارڈز میں غیر استعمال شدہ سرکاری زمین کو کمیونٹی پارکس اور عوامی مقامات میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ تان تھوئی ہِیپ وارڈ میں تقریباً 600 مربع میٹر پر مشتمل ایک پارک قائم کیا گیا ہے، جہاں سبزہ زار، فٹنس سہولیات اور نئے پودے لگائے گئے ہیں۔ اس منصوبے پر تقریباً 328 ملین ویتنامی ڈونگ لاگت آئی، جو مکمل طور پر کاروباری شخصیات اور مقامی رہائشیوں کے تعاون سے فراہم کی گئی۔

مقامی حکام کے مطابق ان منصوبوں کا مقصد نہ صرف شہری حسن میں اضافہ ہے بلکہ عوام کو صحت مند سرگرمیوں اور سماجی روابط کے لیے بہتر ماحول فراہم کرنا بھی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آئندہ بھی پارکس، سبزہ زاروں اور کمیونٹی سہولیات کی توسیع جاری رکھی جائے گی تاکہ شہریوں کے معیارِ زندگی میں مزید بہتری لائی جا سکے۔

بنگلہ دیش Previous post بنگلہ دیش میں بی این پی کی فیصلہ کن کامیابی، قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل
اقوامِ متحدہ Next post اقوامِ متحدہ میں پاکستانی پارلیمانی وفد کی جنرل اسمبلی کی صدر سے ملاقات، کشمیر، آبی معاہدہ اور دہشت گردی پر مؤقف اجاگر