
امریکی اسپیشل فورسز کا ایران میں گرنے والے ایف-15 طیارے کے دوسرے عملے کے رکن کو کامیابی سے بازیاب کرانے کا دعویٰ
واشنگٹن، یورپ ٹوڈے: امریکی اسپیشل آپریشنز فورسز نے ایران کی فضائی حدود میں گرنے والے ایف-15 لڑاکا طیارے کے دوسرے عملے کے رکن کو ہفتہ کے روز کامیابی سے بازیاب کرا لیا، یہ بات میڈیا رپورٹس میں سامنے آئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی جنوب مغربی ایران میں 36 گھنٹوں پر مشتمل ایک پیچیدہ اور کشیدہ آپریشن کے بعد مکمل کی گئی، جہاں امریکی فورسز اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب دونوں لاپتہ امریکی افسر تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔
تازہ کارروائی کے بعد طیارے کے دونوں عملے کے ارکان کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا ہے۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق یہ مشن ایک خصوصی کمانڈو ٹیم نے وسیع فضائی معاونت کے ساتھ انجام دیا، جبکہ تمام امریکی اہلکار کارروائی کے بعد ایران سے نکل چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق طیارے کے گرنے کے بعد پائلٹ اور ویپنز سسٹمز آفیسر ایک دوسرے سے رابطے میں تھے۔ پائلٹ کو طیارہ گرنے کے چند گھنٹوں کے اندر بازیاب کرا لیا گیا تھا، جبکہ دوسرے اہلکار کو ایک دن سے زائد وقت بعد تلاش کر کے نکالا گیا۔
جمعہ اور ہفتہ کے روز امریکی اسپیشل فورسز کو تلاش و بچاؤ آپریشن کے لیے ایران کے اندر تعینات کیا گیا۔ ہفتہ کو دوسرے اہلکار کی نشاندہی کے بعد امریکی فورسز نے فوری ریسکیو آپریشن شروع کیا، جبکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب بھی مبینہ طور پر اس مقام کی جانب بڑھ رہے تھے تاکہ کارروائی کو روکا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی فضائیہ کے طیاروں نے ایرانی فورسز کو مقام تک پہنچنے سے روکنے کے لیے کارروائی کی۔
امریکی اخبار دی نیو یارک ٹائمز کے مطابق ریسکیو کے بعد کمانڈوز اور اہلکاروں کو نکالنے کے لیے استعمال ہونے والے دو ٹرانسپورٹ طیارے ایران کے ایک دور دراز اڈے پر پھنس گئے تھے، جس پر متبادل طور پر تین دیگر طیارے بھیجے گئے اور ناکارہ طیاروں کو تباہ کر دیا گیا تاکہ وہ ایرانی فورسز کے ہاتھ نہ لگ سکیں۔
اس آپریشن کی نگرانی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم سے کی۔
جمعہ کو پائلٹ کی بازیابی کے دوران ایرانی حملے میں امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا گیا، جس میں سوار متعدد اہلکار زخمی ہوئے، تاہم ہیلی کاپٹر پرواز جاری رکھنے میں کامیاب رہا۔