
ویتنام میں توانائی کے تحفظ پر زور، تیل کی بلا تعطل فراہمی اولین ترجیح قرار
ہنوئی، یورپ ٹوڈے: ویتنام کے وزیرِاعظم فام منہ چنہ نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے، جبکہ توانائی کے شعبے میں خود کفالت بڑھانے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں، جن میں تھانہ ہوا صوبے کے نگی سون کمیون میں اسٹریٹجک تیل ذخیرہ گاہ کے قیام کا آغاز بھی شامل ہے۔
انہوں نے یہ بات جمعرات کو قومی توانائی سلامتی ٹاسک فورس کے اجلاس کے دوران کہی، جس میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجی کشیدگی کے تناظر میں پیدا ہونے والی صورتحال اور اس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ ویتنام نے اب تک صورتحال پر مؤثر طور پر قابو رکھا ہے اور بروقت، لچکدار اور مؤثر اقدامات کے ذریعے ملکی سطح پر خام تیل اور ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے، تاکہ پیداوار، کاروبار اور عوامی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
انہوں نے حکومتی دفتر کو ہدایت کی کہ ایندھن پر ٹیکس اور فیس سے متعلق مسودہ دستاویزات اور قراردادوں کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے، جبکہ کابینہ کے اراکین کو بھی فوری رائے دینے کی ہدایت کی گئی تاکہ فیصلوں میں تاخیر نہ ہو۔
وزیرِاعظم نے وزارتِ صنعت و تجارت کو ہدایت دی کہ آئندہ مہینوں میں خام تیل کی درآمد کو یقینی بنایا جائے اور ملکی و عالمی منڈیوں کی صورتحال پر کڑی نظر رکھی جائے۔ ساتھ ہی ممکنہ اتار چڑھاؤ سے نمٹنے کے لیے سپلائی کے مختلف منظرنامے تیار اور باقاعدگی سے اپڈیٹ کیے جائیں۔
انہوں نے ملکی آئل ریفائنریز کو محفوظ اور مستحکم انداز میں چلانے، پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنے اور خام مال کی برآمد سے گریز کرنے کی بھی ہدایت کی۔ مزید برآں، بائیو فیول کے استعمال کے فروغ، قیمتوں کے مؤثر انتظام اور مارکیٹ میں مناسب فراہمی یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔
وزارتِ خزانہ کو ہدایت کی گئی کہ ایندھن کی قیمتوں کو روزانہ کی بنیاد پر مارکیٹ کے مطابق اور قانونی تقاضوں کے تحت منظم کیا جائے، جبکہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے اثرات کا جائزہ لے کر حکومتی حکم نامہ نمبر 72/2026/NĐ-CP کی مدت جون تک بڑھانے کی تجاویز بھی پیش کی جائیں۔
اسٹیٹ بینک آف ویتنام کو ہدایت دی گئی کہ پیٹرولیم کاروبار سے وابستہ اداروں کو مالی سہولیات فراہم کی جائیں، جن میں کم شرح سود، قرضوں تک رسائی اور غیر ملکی زرِ مبادلہ کی فراہمی شامل ہے، تاکہ درآمدات اور ذخائر کے لیے سرمایہ دستیاب ہو۔
وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کو تکنیکی معیارات اور قواعد سے متعلق مسائل فوری حل کرنے اور درآمدی ایندھن کی کلیئرنس کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت دی گئی، تاکہ مصنوعات جلد مارکیٹ میں دستیاب ہو سکیں۔
وزارتِ تعمیرات کو ہدایت کی گئی کہ بڑے آئل ٹینکرز کے لیے بندرگاہی حفاظتی منصوبوں کی منظوری کے عمل کو تیز کیا جائے، خاص طور پر کوانگ نِنہ اور ہو چی منہ سٹی میں، تاکہ درآمدی عمل میں سہولت پیدا ہو۔
وزارتِ خارجہ کو توانائی سفارتکاری کو فروغ دینے اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ روابط مضبوط بنانے کی ہدایت کی گئی۔
وزیرِاعظم نے سرکاری اداروں بشمول پیٹرو ویتنام، ای وی این، ٹی کے وی، پیٹرولیمیکس اور ویتنام ایئرلائنز کو بھی ہدایت دی کہ وہ وزارتوں کے ساتھ قریبی تعاون کرتے ہوئے سپلائی کے ذرائع کو مستحکم بنائیں اور ہنگامی منصوبہ بندی کو مؤثر بنائیں۔
طویل المدتی حکمتِ عملی کے تحت وزیرِاعظم نے توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے، قومی خودمختاری کو مضبوط کرنے، توانائی ذخائر میں اضافہ کرنے اور توانائی کے مؤثر استعمال کو فروغ دینے پر بھی زور دیا۔